تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 11. Hud · Ayah 62

  1. قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَاۤ اَتَنْهٰىنَاۤ اَنْ نَّعْبُدَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ﴿62﴾

    1. قَالُوْاوہ بولے
    2. يٰصٰلِحُاے صالح
    3. قَدْ كُنْتَتو تھا
    4. فِيْنَاہم میں (ہمارے درمیان)
    5. مَرْجُوًّامرکز امید
    6. قَبْلَ ھٰذَآاس سے قبل
    7. اَتَنْهٰىنَآکیا تو ہمیں منع کرتا ہے
    8. اَنْ نَّعْبُدَکہ ہم پرستش کریں
    9. مَا يَعْبُدُاسے جس کی پرستش کرتے تے
    10. اٰبَآؤُنَاہمارے باپ دادا
    11. وَاِنَّنَااور بیشک ہم
    12. لَفِيْ شَكٍّشک میں ہیں
    13. مِّمَّااس سے جو
    14. تَدْعُوْنَآتو ہمیں بلاتا ہے
    15. اِلَيْهِاس کی طرف
    16. مُرِيْبٍقوی شبہ میں
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
انہوں نے کہا کہ صالح اس سے پہلے ہم تم سے (کئی طرح کی) امیدیں رکھتے تھے (اب وہ منقطع ہوگئیں) کیا تم ہم کو ان چیزوں کے پوجنے سے منع کرتے ہو جن کو ہمارے بزرگ پوجتے آئے ہیں؟ اور جس بات کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو، اس میں ہمیں قوی شبہ ہے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
باپ دادا کے معبود ہی ہم کو پیارے ہیں حضرت صالح ؑ اور آپ کی قوم کے درمیان جو بات چیت ہوئی اس کا بیان ہو رہا ہے وہ کہتے ہیں کہ تو یہ بات زبان سے نکال۔ اس سے پہلے تو ہماری بہت کچھ امیدیں تجھ سے وابستہ تھیں، لیکن تو نے ان سے سب پر پانی پھر دیا۔ ہمیں پرانی روش اور باپ دادا کے طریقے اور پوجا پاٹ سے ہٹانے لگا۔ ہمیں تو تیری اس نئی رہبری میں بہت بڑا شک شبہ ہے۔ آپ نے فرمایا سنو میں اعلیٰ دلیل پر ہوں۔ میرے پاس رب کی نشانی ہے، مجھے اپنی سچائی پر دلی اطمینان ہے میرے پاس اللہ کی رسالت کی رحمت ہے۔ اب اگر میں تمہیں اس کی دعوت نہ دوں اور اللہ کی نافرمانی کرو اور اس کی عبادت کی طرف تمہیں نہ بلاؤں تو کون ہے جو میری مدد کرسکے اور اللہ کے عذاب سے مجھے بچا سکے ؟ میرا ایمان ہے کہ مخلوق میرے کام نہیں آسکتی تم میرے لیے محض بےسود ہو۔ سوائے میرے نقصان کے تم مجھے اور کیا دے سکتے ہو۔