تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 10. Yunus · Ayah 87

  1. وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى وَ اَخِیْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا وَّ اجْعَلُوْا بُیُوْتَكُمْ قِبْلَةً وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ﴿87﴾

    1. وَاَوْحَيْنَآاور ہم نے وحی بھیجی
    2. اِلٰىطرف
    3. مُوْسٰىموسیٰ
    4. وَاَخِيْهِاور اس کا بھائی
    5. اَنْ تَبَوَّاٰکہ گھر بناؤ تم
    6. لِقَوْمِكُمَااپنی قوم کے لیے
    7. بِمِصْرَمصر میں
    8. بُيُوْتًاگھر
    9. وَّاجْعَلُوْااور بناؤ
    10. بُيُوْتَكُمْاپنے گھر
    11. قِبْلَةًقبلہ رو
    12. وَّاَقِيْمُوااور قائم کرو
    13. الصَّلٰوةَنماز
    14. وَبَشِّرِاور خوشخبری دو
    15. الْمُؤْمِنِيْنَمومن (جمع)
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی بھیجی کہ اپنے لوگوں کے لیے مصر میں گھر بناؤ اور اپنے گھروں کو قبلہ (یعنی مسجدیں) ٹھہراؤ اور نماز پڑھو۔ اور مومنوں کو خوشخبری سنادو
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
قوم فرعون سے بنی اسرائی کی نجات بنی اسرائیل کی فرعون اور فرعون کی قوم سے نجات پانا، اس کی کیفیت بیان ہو رہی ہے دونوں نبیوں کو اللہ کی وحی ہوئی کہ " اپنی قوم کے لیے مصر میں گھر بنالو۔ اور اپنے گھروں کو مسجدیں مقرر کرلو۔ اور خوف کے وقت گھروں میں نماز ادا کرلیا کرو "۔ چناچہ فرعون کی سختی بہت بڑھ گئی تھی۔ اس لیے انہیں کثرت سے نماز ادا کرنے کا حکم ہوا۔ یہی حکم اس امت کو ہے کہ ایمان دار و صبر اور نماز سے مدد چاہو۔ حضور ﷺ کی عادت مبارک بھی یہی تھی کہ جب کوئی گھبراہٹ ہوتی فوراً نماز کے لیے کھڑے ہوجاتے۔ یہاں بھی حکم ہوتا ہے کہ اپنے گھروں کو قبلہ بنا لو، اے نبی ﷺ ان مومنوں کو تم بشارت دو انہیں دار آخرت میں ثواب ملے گا اور دنیا میں ان کی تائید و نصرت ہوگی۔ اسرائیلیوں نے اپنے نبی سے کہا تھا کہ فرعونیوں کے سامنے ہم اپنی نماز اعلان سے نہیں پڑھ سکتے تو اللہ نے انہیں حکم دیا کہ اپنے گھر قبلہ رو ہو کر وہیں نماز ادا کرسکتے ہو اپنے گھر آمنے سامنے بنانے کا حکم ہوگیا۔