تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 10. Yunus · Ayah 54
وَ لَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِی الْاَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهٖ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ﴿54﴾
- وَلَوْاور اگر ہو
- اَنَّہو
- لِكُلِّ نَفْسٍہر ایک کے لیے
- ظَلَمَتْاس نے ظلم کیا (ظالم)
- مَاجو کچھ
- فِي الْاَرْضِزمین میں
- لَافْتَدَتْالبتہ فدیہ دے دے
- بِهٖاس کو
- وَاَسَرُّوااور وہ چپکے چپکے ہوں گے
- النَّدَامَةَپشیمان
- لَمَّاجب
- رَاَوُاوہ دیکھیں گے
- الْعَذَابَعذاب
- وَقُضِيَاور فیصلہ ہوگا
- بَيْنَھُمْان کے درمیان
- بِالْقِسْطِانصاف کے ساتھ
- وَھُمْاور وہ
- لَا يُظْلَمُوْنَظلم نہ کیے جائیں گے
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور اگر ہر ایک نافرمان شخص کے پاس روئے زمین کی تمام چیزیں ہوں تو (عذاب سے بچنے کے) بدلے میں (سب) دے ڈالے اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو (پچھتائیں گے اور) ندامت کو چھپائیں گے۔ اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور (کسی طرح کا) ان پر ظلم نہیں ہوگا
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
خالق کل عالم کل ہے
مالک آسمان و زمین مختار کل کائنات اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اللہ کے وعدے سچے ہیں وہ پورے ہو کر ہی رہیں گے۔ یہ اور بات ہے کہ اکثر لوگ علم نہیں رکھتے۔ جلانے مارنے والا وہی ہے، سب باتوں پر وہ قادر ہے۔ جسم سے علیحدہ ہونے والی چیز کو، اس کے بکھر کر بگڑ کر ٹکڑے ہونے کو وہ جانتا ہے اس کے حصے کن جنگلوں میں کن دریاؤں میں کہاں ہیں وہ خوب جانتا ہے۔