Tafseer-Ibne-Abbas - Az-Zumar : 22
وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ یَئُوْسًا
وَاِذَآ : اور جب اَنْعَمْنَا : ہم نعمت بخشتے ہیں عَلَي : پر۔ کو الْاِنْسَانِ : انسان اَعْرَضَ : وہ روگردان ہوجاتا ہے وَنَاٰ بِجَانِبِهٖ : اور پہلو پھیر لیتا ہے وَاِذَا : اور جب مَسَّهُ : اسے پہنچتی ہے الشَّرُّ : برائی كَانَ : وہ ہوجاتا ہے يَئُوْسًا : مایوس
اور کہہ دو کہ حق آگیا اور باطل نابود ہوگیا بیشک باطل نابود ہونے والا ہے۔
(81) اور کہہ دیجیے کہ اب رسول اکرم ﷺ قرآن کریم کے ساتھ تشریف لے آئے ہیں یا یہ کہ اب اسلام کا غلبہ ہوگیا ہے اور مسلمانوں کی کثرت ہوگئی ہے اور شیطان اور شرک اور مشرکین سب ہلاک ہوئے اور واقعی یہ باطل چیزیں تو یوں ہی آتی جاتی رہتی ہیں۔
Top