Madarik-ut-Tanzil - Al-Waaqia : 84
قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ
قَالَ : اس نے کہا يٰقَوْمِ : اے میری قوم اِنِّىْ : بیشک میں لَكُمْ : بیشک میں نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ : ڈرانے والا ہوں کھلم کھلا
ہم نے نوح کو ان کی قوم کر طرف بھیجا کہ پیشتر اسکے کہ ان پر درد دینے والا عذاب واقع ہو اپنی قوم کو ہدایت کردو
1 : اِنَّآ اَرْسَلْنَا نُوْحًا ایک قول یہ ہے کہ نوح کا معنی سریانی زبان میں ساکن ہے۔ اِلٰی قَوْمِہٖٓ اَنْ اَنْذِرْ نحو : انذارؔ خوف دلانے کے معنی میں آتا ہے۔ اس کی اصل بان انذر۔ پس جار حذف کر کے اَنْ کو فعل سے ملا دیا۔ خلیل (رح) کے نزدیک یہ محل جر میں واقع ہے۔ اور دیگرنحات کے ہاں منصوب ہے۔ نمبر 2۔ ان مفسرہ ہے جو کہ ای کے معنی میں آتا ہے۔ کیونکہ ارسال میں قول کا معنی متضمن ہے۔ قَوْمَکَ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْ تِیَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ عذاب الیم سے آخرت کا عذاب یا طوفان نوح مراد ہے۔
Top