Bayan-ul-Quran - Al-A'raaf : 150
وَ لَمَّا سُقِطَ فِیْۤ اَیْدِیْهِمْ وَ رَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا١ۙ قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَ یَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ
وَ : اور لَمَّا : جب سُقِطَ فِيْٓ اَيْدِيْهِمْ : گرے اپنے ہاتھوں میں (نادم ہوئے) وَرَاَوْا : اور دیکھا انہوں نے اَنَّهُمْ : کہ وہ قَدْ ضَلُّوْا : تحقیق گمراہ ہوگئے قَالُوْا : وہ کہنے لگے لَئِنْ : اگر لَّمْ يَرْحَمْنَا : رحم نہ کیا ہم پر رَبُّنَا : ہمارا رب وَيَغْفِرْ لَنَا : اور (نہ) بخش دیا لَنَكُوْنَنَّ : ضرور ہوجائیں گے مِنَ : سے الْخٰسِرِيْنَ : خسارہ پانے والے
اور جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کی طرف واپس آئے غصہ اور رنج میں بھرے ہوئے (ف 6) تو فرمایا کہ تم نے میرے بعد یہ بڑی نامعقول حرکت کی کیا اپنے رب کے حکم (آنے) سے پہلے ہی تم نے جلد بازی کرلی۔ اور (جلدی سے) تختیاں ایک طرف رکھیں (ف 1) اور اپنے بھائی کا سر پکڑ کر اپنی طرف گھسیٹنے لگے۔ (ہارون (علیہ السلام) نے) کہا اے میرے ماں جائے (بھائی) ان لوگوں نے مجھ کو بےحقیقت سمجھا اور قریب تھا کہ مجھ کو قتل کرڈالیں سو تم مجھ پر (سختی کرکے) دشمنوں کو مت ہنسواؤ اور مجھ کو ان ظالم لوگوں کے ذیل میں مت شمار کرو۔ (150)
6۔ کیونکہ ان کو وحی سے یہ معلوم ہوگیا تھا۔ 1۔ اور جلدی میں ایسے زور سے رکھی گئیں کہ دیکھنے والے اگر غور نہ کرے توشبہہ ہو کر جیسے کسی نے پٹک دی ہوں۔
Top