Ashraf-ul-Hawashi - Al-An'aam : 51
وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ١ؕ مَا عَلَیْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ مَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَیْهِمْ مِّنْ شَیْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ
وَ : اور لَا تَطْرُدِ : دور نہ کریں آپ الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو يَدْعُوْنَ : پکارتے ہیں رَبَّهُمْ : اپنا رب بِالْغَدٰوةِ : صبح وَالْعَشِيِّ : اور شام يُرِيْدُوْنَ : وہ چاہتے ہیں وَجْهَهٗ : اس کا رخ (رضا) مَا : نہیں عَلَيْكَ : آپ پر مِنْ : سے حِسَابِهِمْ : ان کا حساب مِّنْ شَيْءٍ : کچھ وَّ : اور مَا : نہیں مِنْ : سے حِسَابِكَ : آپ کا حساب عَلَيْهِمْ : ان پر مِّنْ شَيْءٍ : کچھ فَتَطْرُدَهُمْ : کہ تم انہیں دور کردو گے فَتَكُوْنَ : تو ہوجاؤ مِنَ : سے الظّٰلِمِيْنَ : ظالم (جمع)
اور (اے پیغمبر) قرآن کے ذریعہ سے اگر ان لوگوں کو ڈرا جو (قیامت کے دن) اپنے مالک کے پاس اکٹھا ہونے کا خوف رکھتے ہیں (وہاں) خدا کے سو ان ان کا کوئی حمایتی ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا اس لیے کہ وہ (گناہوں س) بچتے رہیں6
6 اوپر کی آیت میں پیغمبروں کے متعلق بیان فرمایا کہ وہ مبشر اور منذرہو تے ہیں۔ اب اس آیت میں آنحضرت ﷺ کو انداز کا حکم دیا ( رازی) یعنی قرآن سن کر اور زیادہ ڈرپیدا ہو اور گنا ہوں سے باز آجاویں آیت سے ان کافروں کا رد مقصود ہے جو یہ گمان رکھتے تھے کہ ان کے معبود اور اٹھاکر وغیرہ اللہ تعالیٰ سے سفارش کر کے ان کو بچالیں گے اسی طرح ان لوگوں کے لے بھی اس میں عبرت ہے جو اپنے بزرگوں کی سفارش پر تکیہ کر کے بےکھٹکے گناہ کرتے رہتے ہیں کیو کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کسی کی سفارش نہیں چل سکے گی، ؟ (وحیدی، ترجمان )
Top