بصیرتِ قرآن
Baseerat-e-Quran · 4. An-Nisaa · Ayah 170
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَاٰمِنُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ وَ اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا﴿170﴾
- يٰٓاَيُّھَااے
- النَّاسُلوگ
- قَدْ جَآءَكُمُتمہارے پاس آیا
- الرَّسُوْلُرسول
- بِالْحَقِّحق کے ساتھ
- مِنْسے
- رَّبِّكُمْتمہارا رب
- فَاٰمِنُوْاسو ایمان لاؤ
- خَيْرًابہتر
- لَّكُمْتمہارے لیے
- وَاِنْاور اگر
- تَكْفُرُوْاتم نہ مانو گے
- فَاِنَّتو بیشک
- لِلّٰهِاللہ کے لیے
- مَاجو
- فِي السَّمٰوٰتِآسمانوں میں
- وَالْاَرْضِاور زمین
- وَكَانَاور ہے
- اللّٰهُاللہ
- عَلِيْمًاجاننے والا
- حَكِيْمًاحکمت والا
Translation · Baseerat-e-Quran
اے لوگو ! تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک رسول حق لے کر آگیا ہے۔ اب تم اس پر ایمان لاؤ۔ اسی میں تمہاری بہتری ہے۔ اور اگر کفر کرو گے تو بیشک جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ اللہ ہی کے لئے ہے۔ اور اللہ علم والا بھی ہے اور حکمت والا بھی۔
Tafseer · Baseerat-e-Quran
آیت نمبر 170
لغات القرآن : خیر، بہتر۔ ان تکفروا، اگر تم کفر کرتے ہو۔
تشریح : اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں تمام لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ تم فضول باتوں اور ہٹ دھرمی میں مت پڑو۔ سیدھی بات یہ ہے کہ اللہ کا رسول ﷺ جو کچھ تمہیں سنا رہا ہے اور سکھا رہا ہے وہ سب کا سب اللہ ہی کی طرف سے ہے اور خالص سچائی ہے۔ اگر تم ایمان لے آئے اور دین اسلام کے راستے پر چلے تو تمہارا ہی فائدہ ہے لیکن اگر تم نے کفر کا راستہ اختیار کرلیا تو تم اللہ کا کچھ بگاڑ نہ سکو گے۔ آسمانوں اور زمین کا مالک و منتظم وہی ہے اور یہ کارخانہ قدرت اسی کے علم و حکمت سے چل رہا ہے ۔ تم قادر مطلق کو کیا نقصان پہنچا سکتے ہو۔ تمہیں تو اپنی آخرت کی فکر ہونی چاہئے۔