Tafseer-e-Baghwi - Al-A'raaf : 80
فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ
فَتَوَلّٰى : پھر منہ پھیرا عَنْهُمْ : ان سے وَقَالَ : اور کہا يٰقَوْمِ : اے میری قوم لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ : تحقیق میں تمہیں پہنچا دیا رِسَالَةَ : پیغام رَبِّيْ : اپنا رب وَنَصَحْتُ : اور خیر خواہی کی لَكُمْ : تمہاری وَلٰكِنْ : اور لیکن لَّا تُحِبُّوْنَ : تم پسند نہیں کرتے النّٰصِحِيْنَ : خیر خواہ (جمع)
اور جب ہم نے لوط کو پیغمبر بنا کر بھیجا تو اس وقت انہوں نے اپنی قوم سے کہا تم ایسی بےحیائی کا کام کیوں کرتے ہو کہ تم سے پہلے اہل عالم میں سے کسی نے اس طرح کا کام نہیں کیا ؟
تفسیر 80 (ولوطاً ) بعض نے کہا مطلب یہ ہے کہ آپ یاد کریں لوط (علیہ السلام) کو یہ لوط بن ہاران بن تارخ بن انی ابراہیم (اذ قال لقومہ) یہ سدوم کے رہنے والے ہیں کیونکہ لوط (علیہ السلام) بابل کے رہنے اولے تھے اپنے چچا ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ سفر ہجرت کیا شام کی طرف تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فلسطین میں قیام کیا اور لوط (علیہ السلام) نے اردن میں قیام کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو سدوم والوں کی طرف رسول بنایا تو انہوں نے ان کو فرمایا (اتاتون الفاحشۃ) مردوں کے پاس آتا (ماسبقکم بھامن احد من العلمین) عمر و بن دینار (رح) فرماتے ہیں کہ لوط (علیہ السلام) کی قوم سے پہلے کوئی نر کسی نر پر کبھی نہیں چڑھا تھا۔
Top