Ashraf-ul-Hawashi - Al-An'aam : 26
وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ وَ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْكَ یُجَادِلُوْنَكَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ
وَمِنْهُمْ : اور ان سے مَّنْ : جو يَّسْتَمِعُ : کان لگاتا تھا اِلَيْكَ : آپ کی طرف وَجَعَلْنَا : اور ہم نے ڈالدیا عَلٰي : پر قُلُوْبِهِمْ : ان کے دل اَكِنَّةً : پردے اَنْ : کہ يَّفْقَهُوْهُ : وہ (نہ) سمجھیں اسے وَ : اور فِيْٓ اٰذَانِهِمْ : ان کے کانوں میں وَقْرًا : بوجھ وَاِنْ : اور اگر يَّرَوْا : وہ دیکھیں كُلَّ : تمام اٰيَةٍ : نشانی لَّا يُؤْمِنُوْا : نہ ایمان لائیں گے بِهَا : اس پر حَتّٰٓي : یہانتک کہ اِذَا : جب جَآءُوْكَ : آپ کے پاس آتے ہیں يُجَادِلُوْنَكَ : آپ سے جھگرتے ہیں يَقُوْلُ : کہتے ہیں الَّذِيْنَ : جن لوگوں نے كَفَرُوْٓا : انہوں نے کفر کیا اِنْ : نہیں هٰذَآ : یہ اِلَّآ : مگر (صرف) اَسَاطِيْرُ : کہانیاں الْاَوَّلِيْنَ : پہلے لوگ (جمع)
اور وہ (لوگوں کو) اس سے روکتے ہیں اور خود بھی الگ رہتے ہیں8 اور یہ لوگ کچھ نہیں مگر اپنے تئیں آپ تباہ کرتے ہیں اور سمجھتے نہیں9
8 یعنی صرف قرآن پر طعن کرنے پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ قرآن سننے اور آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے سے دوسرے لوگوں کو بھی منع کرتے ہیں (کذافی الکبیر) بہت سے بدعت پرست علما اپنے مانے والوں کو اس لیے قرآن مجید کا ترجمہ پڑھنے سے منع کرتے ہیں کہ کہیں وہ عشق وجذب۔ باگل پن کی بھول بھلیوں سے نکل کر وہابی نہ بن جائیں لا حول ولا وقوۃ الا باللہ العلی العظیم،9 حضرت ابن عباس ؓ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ کفر غلو اور تمادی کے سبب اپنے آپ کو ہلاکت کر گڑھے میں ڈال رہے ہیں اور یہ نہیں سمجھے س کفر و معصیت کا انجام دوزخ ہوگا۔ (کبیر )
Top