Ashraf-ul-Hawashi - Al-Baqara : 68
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ
يَا اَيُّهَا النَّاسُ : اے لوگو اعْبُدُوْا : عبادت کرو رَبَّكُمُ : تم اپنے رب کی الَّذِیْ : جس نے خَلَقَكُمْ : تمہیں پیدا کیا وَالَّذِیْنَ : اور وہ لوگ جو مِنْ : سے قَبْلِكُمْ : تم سے پہلے لَعَلَّكُمْ : تا کہ تم تَتَّقُوْنَ : تم پرہیزگار ہوجاؤ
پھر ان دونوں کو شیطان سے پھسلا کر وہاں سے ہٹا دیا او جس مزے میں تھے اس میں سے نکلوا کر چھوڑا اور ہم نے حکم دیا تم سب اتر جاؤ ایک دوسرے کے دشمن اور تم کو زمین میں رہنا اور وہاں کے مزے اٹھانا ہے ایک مدت تک۔5
5 ۔ شیطان اس روغلانے کا سورت اعراف آیت :2) میں ذکر کیا ہے اس نے کچھ قسمیں کھا کر آدم اور حوا (علیہ السلام) کے دل میں وسوسہ پیدا کردیا اور الی حین کے معنی تاقیا مت کے ہے بعض علمانے یہاں شیطان کے جنت میں چلے جانے کے متعلق ایک عجیب و غریب قصہ نقل کیا ہے جو اسرائیلیات سے ماخوذ ہے۔ (ابن کثیر)
Top