Anwar-ul-Bayan - Al-Waaqia : 44
لَّا بَارِدٍ وَّ لَا كَرِیْمٍ
لَّا بَارِدٍ : نہ ٹھنڈے وَّلَا كَرِيْمٍ : اور نہ آرام دہ
(جو) نہ ٹھنڈا (ہے) اور نہ خوشنما
(56:44) لاباردو لاکریم۔ یہ ظل کی صفتیں ہیں۔ بارد، برد سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ ٹھنڈا۔ نہ (دوسرے سایوں کی طرح) ٹھنڈا۔ کریم خوش منظر۔ (الیسر التفاسیر) مرضی کے مطابق ٹھنڈی و کشادہ (روح المعانی) آرام دہ (ضیاء القرآن) ۔ جو سود مند نہ ہو اور نہ دیکھنے میں اچھا ہو۔ (تفسیر مظہری) دونوں ظل کی صفت ہیں۔ کرم اللہ کی صفت بھی ہے۔ انسان کی بھی ۔ فرشتے کی بھی قرآن کی بھی اور دوسری چیزوں کی بھی، اور سب کے معانی اختلاف ہے کریم : الکرم (باب کرم) مصدر سے صفت مشبہ کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ لغات القرآن میں ہے :۔ امام راغب نے لکھا ہے :۔ کرم اللہ کی صفت بھی ہے، انسان کی بھی، فرشتے کی بھی، قرآن کی بھی اور دوسری چیزوں کی بھی، اور سب کے معانی میں اختلاف ہے :۔ (1) اللہ کے کرم سے مراد ہے مخلوق پر اس کا احسان و انعام ، مخلوق پر احسان کرتا ہے پیہم نعمتوں سے نوازتا ہے۔ (2) آدمی کے کرم سے مراد ہے اخلاق پسندیدہ ۔ خصائل حمیدہ، کردار کی خوبی اور ہر ذاتی شرف، آدمی کریم ہے یعنی اچھے کردار کا مالک ہے اس کے اندر محاسن ہیں، شرف ہے۔ ، بزرگی ہے۔ (3) ملائکہ کے کریم ہونے کے معنی ہیں دربار الٰہی میں ان کی عزت حرمت، و بزرگی، جیسے کراما کاتبین : عزت والے فرشتے جو انسانوں کے اعمال نامے لکھتے ہیں۔ (4) قرآن کریم، یا کتاب کریم، عزت و شرف والا قرآن یا کتاب۔ (5) رسول کریم، بزرگی والا پیغام بر۔ (جبرائیل) (6) قول کریم، نرم، اچھی بات، عاجزانہ کلام۔ (7) باقی اشیاء میں سے جس چیز کی صفت کریم ہوگی اس سے مراد ہوگا اس چیز کا اچھی صفات سے متصف ہونا۔ جیسے زوج کریم ہر عمدہ قسم، مقام کریم، عمدہ مقام۔
Top