Tafseer-e-Usmani - An-Nisaa : 29
اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا
اِلَّا قِيْلًا : مگر بات ہوگی سَلٰمًا سَلٰمًا : سلام، سلام کی
یا پھر تمہارے لئے کوئی گھر ہی سونے کا ہو یا تم آسمان پر چڑھ جاؤ اور ہم تو تمہارے (آسمان پر) چڑھ جانے پر بھی ایمان نہیں لانے کے جب تک کہ تم (وہاں سے) ہمارے لئے ایک نوشتہ نہ اتارلاؤ جسے ہم پڑھ لیں آپ کہہ دیجیے کہ پاک ہے اللہ میں بجز ایک آدمی (اور) رسول کے اور کیا ہوں،134۔
134۔ (اور ہر بشر کی طرح میں بھی خوارق ومعجزات پیش کرنے سے معذور ہوں) جواب ان خرافی مطالبات کا رسول برحق کی زبان سے یہ ادا کردیا گیا کہ معاذ اللہ میں تو محض بشر ہوں۔ میرے اختیار میں یہ عجائب نمائی کہاں ہے۔ ہاں اتنی بات ہے کہ بشر ہونے کے ساتھ رسول بھی ہوں۔ لیکن رسول کے کام کا پہنچا دینا ہے۔ اور بس ! میری صداقت کا دار و مدار معجزات پر ہرگز نہیں۔ (آیت) ” سبحان ربی “۔ مشرکین کی درخواست کی تہ میں یہ شے تھی کہ جیسے کوئی آپ بھی نیم دیوتا سے تھے اور قوت وقدرت میں حق تعالیٰ کے کسی درجہ میں شریک ! (آیت) ” سبحان ربی “۔ میں یہی اشارہ ہے، کہ اس ذات پاک کی توحید مطلق ہر قسم اور ہر درجہ کی شرک کی آلودگی سے پاس ہے ! محققین نے یہیں سے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ مقبولین کو یہ قدرت حاصل نہیں ہوتی کہ ان سے جو درخواست کی جائے وہ اسے پورا کردیں یاکرا دیں۔
Top