Anwar-ul-Bayan - Al-Baqara : 4
وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖۤ اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا١ؕ قَالَ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ
وَ : اور اِذْ : جب قَالَ : کہا مُوْسٰى : موسیٰ نے لِقَوْمِهٖٓ : اپنی قوم سے اِنَّ : بیشک اللّٰهَ : اللہ تعالیٰ يَاْمُرُكُمْ : حکم دیتا ہے تم کو اَنْ : یہ کہ تَذْبَحُوْا : تم ذبح کرو بَقَرَةً : ایک گائے قَالُوْٓا : انہوں نے کہا اَتَتَّخِذُنَا : کیا تم کرتے ہو ہم سے ھُزُوًا : مذاق قَالَ : اس نے کہا ( موسیٰ ) اَعُوْذُ : میں پناہ مانگتا ہوں بِاللّٰهِ : اللہ کی (اس بات سے اَنْ : کہ اَكُوْنَ : میں ہوجاؤں مِنَ : سے الْجٰهِلِيْنَ : جاہلوں میں سے
تو تم اس کے بعد (عہد سے) پھرگئے اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اسکی مہربانی نہ ہوتی تو تم خسارے میں پڑگئے ہوتے
ثم۔ پھر، ازاں بعد۔ حرف عطف ہے، ترخی فی الوقت کے لئے آیا ہے۔ تولیتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر، تولی (تفعل) تم پھرگئے۔ تم نے منہ موڑا۔ لولا۔ امتناعیہ ہے۔ اور لو حرف شرط اور لا نافیہ سے مرکب ہے۔ فضل اللہ علیکم ورحمتہ۔ فضل اللہ مضاف مضاف الیہ علیکم جار مجرور مل کر متعلق فضل ۔ فضل اپنے متعلق اور مضاف الیہ (اللہ) سے مل کر معطوف علیہ ہے اپنے معطوف ورحمتہ کا۔ معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر مبتدا جس کی خبر حاضر محذوف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ : اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی۔ لکنتم من الخسرین ۔ لام تاکید کا ہے جواب شرط میں آیا ہے۔ یہ جملہ، جملہ فعلیہ ہوکر جواب شرط ہے۔ تو تم ضرور خسارہ پانے والوں میں سے ہوتے۔
Top