Tafseer-Ibne-Abbas - Al-An'aam : 42
وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ١ؕ مَا عَلَیْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ مَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَیْهِمْ مِّنْ شَیْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ
وَ : اور لَا تَطْرُدِ : دور نہ کریں آپ الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو يَدْعُوْنَ : پکارتے ہیں رَبَّهُمْ : اپنا رب بِالْغَدٰوةِ : صبح وَالْعَشِيِّ : اور شام يُرِيْدُوْنَ : وہ چاہتے ہیں وَجْهَهٗ : اس کا رخ (رضا) مَا : نہیں عَلَيْكَ : آپ پر مِنْ : سے حِسَابِهِمْ : ان کا حساب مِّنْ شَيْءٍ : کچھ وَّ : اور مَا : نہیں مِنْ : سے حِسَابِكَ : آپ کا حساب عَلَيْهِمْ : ان پر مِّنْ شَيْءٍ : کچھ فَتَطْرُدَهُمْ : کہ تم انہیں دور کردو گے فَتَكُوْنَ : تو ہوجاؤ مِنَ : سے الظّٰلِمِيْنَ : ظالم (جمع)
اور ہم نے تم سے پہلے بہت سی امتوں کی طرف پیغمبر بھیجے (پھر انکی طرف نافرمانیوں کے سبب) ہم انھیں سختیوں اور تکلیفوں میں پکڑتے رہے تاکہ عاجزی کریں۔
(42۔ 43) جیسا کہ آپ کو آپ کی قوم کی طرف ہم نے بھیجا، چناچہ جو ایمان نہیں لائے تو ان میں سے بعض کو بعض کا خوف دلا کر اور مصیبتوں اور بیماریوں، تکالیف اور آزمائشوں میں مبتلا کیا تاکہ وہ اللہ کے حضور دعا کریں اور ایمان لائیں کہ پھر ان سے عذاب کو دور کیا جائے تو پھر کیوں نہیں وہ ہمارے عذاب پر ایمان قبول کرتے لیکن ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دل سخت ہوگئے تو دنیا کی حالت یہی ہے کبھی سختی تو پھر کبھی خوشحالی۔
Top