Al-Quran-al-Kareem - Al-Waaqia : 51
ثُمَّ اِنَّكُمْ اَیُّهَا الضَّآلُّوْنَ الْمُكَذِّبُوْنَۙ
ثُمَّ اِنَّكُمْ : پھر بیشک تم اَيُّهَا الضَّآلُّوْنَ : اے گمراہو الْمُكَذِّبُوْنَ : جھٹلانے والو
پھر بیشک تم اے گمراہو ! جھٹلانے والو !
ثُمَّ اِنَّکُمْ اَیُّہَا الضَّآلُّوْنَ الْمُکَذِّبُوْنَ۔۔۔۔:”الھیم“”اھیم“ (مذکر) اور ”ھیمائ“ (مؤنث) کی جمع ہے ، بروزن ”فعل“ ”ہا“ پر اصل میں ضمہ تھا ، ”یائ“ کی مناسبت سے ضمہ کو کسرہ سے بدل دیا ، جیسے ”ابیض“ اور بیضائ“ کی جمع ”بیض“ ہے۔ وہ اونٹ جنہیں ہیام (بروزن زکام) کا مرض لا حق ہو ، یعنی ایسی پیاس جس سے اونٹ پانی پیتے جاتے ہیں مگر وہ بجھتی ہی نہیں حتیٰ کہ وہ مرجاتے ہیں یا قرب الموت ہوجاتے ہیں۔ ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ صافات (63 تا 68)
Top