Kashf-ur-Rahman - Al-An'aam : 35
وَ رَبُّكَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَسْتَخْلِفْ مِنْۢ بَعْدِكُمْ مَّا یَشَآءُ كَمَاۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ ذُرِّیَّةِ قَوْمٍ اٰخَرِیْنَؕ
وَرَبُّكَ : اور تمہارا رب الْغَنِيُّ : بےپروا (بےنیاز) ذُو الرَّحْمَةِ : رحمت والا اِنْ : اگر يَّشَاْ : وہ چاہے يُذْهِبْكُمْ : تمہیں لے جائے وَيَسْتَخْلِفْ : اور جانشین بنا دے مِنْۢ بَعْدِكُمْ : تمہارے بعد مَّا يَشَآءُ : جس کو چاہے كَمَآ : جیسے اَنْشَاَكُمْ : اس نے تمہیں پیدا کیا مِّنْ : سے ذُرِّيَّةِ : اولاد قَوْمٍ : قوم اٰخَرِيْنَ : دوسری
اے پیغمبر یہ رسولوں کا بھیجنا اس لئے ہے کہ آپ کے رب کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ وہ کسی بستی کے لوگوں کو ان کے ظلم کی وجہ سے تباہ کر دے اور ان کو احکام الٰہی کی خبر بھی نہ ہو
-131 یہ رسولوں کا بھیجنا اور احکام الٰہی کا پہنچانا اس بنا پر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بستی کے باشندوں کو ایسی حالت میں ہلاک نہیں کیا کرتا کہ وہ احکام الٰہی سے بیجز ہوں۔ یعنی جب تک کسی بستی کے رہنے والوں کو پیغمبروں کی معرفت احکام الٰہی پہنچا دیئے جائیں اور ان کی جانب سے انکار نہ ہوجائے اس وقت تک اللہ تعالیٰ کسی بستی کے رہنے والوں کو عذاب سے ہلاک نہیں کیا کرتا۔
Top