Tadabbur-e-Quran - Al-Waaqia : 51
ثُمَّ اِنَّكُمْ اَیُّهَا الضَّآلُّوْنَ الْمُكَذِّبُوْنَۙ
ثُمَّ اِنَّكُمْ : پھر بیشک تم اَيُّهَا الضَّآلُّوْنَ : اے گمراہو الْمُكَذِّبُوْنَ : جھٹلانے والو
پھر تم لوگ، اے گمراہو اور جھٹلانے والو ،
(ثم انکم ایھا الضالون المکذبون لا کلون من شجر من زقوم فما لون منھا البطون فشربون علیہ من الحمیم فشربون شرب الھیم) (51، 55) (یہ قریش کو براہ راست خطاب کر کے ارشاد ہوا کہ اے گمراہو اور جھٹلانے والو، جانتے ہو کہ اٹھائے جانے کے بعد کیا ہوگا ؟ اس کے بعد قوم رقوم کے خار دار اور کڑوے پتوں اور پھلوں سے اپنے پیٹ بھرو گے، پھر اس پر کھولتا ہوا پانی اس طرح پیو گے جس طرح سون سے ہوئے اونٹ پیتے ہیں۔ (ضالون اور مکذبون) کی دو صفتوں سے خطاب ان کے ان دو جرموں کے اعتبار سے ہے جو مذکور ہوئے۔ اوپر ان کے شرک اور تکذیب آخرت کا ذکر ہوا ہے، انہی کے لحاظ سے یہاں خطاب (ضالون اور مکذبون) کے الفاظ سے ہوا، یعنی اللہ کی توحید کے باب میں کج راہ اور آخرت کے جھٹلانے والے۔ اوپر ان کے (مترفین) یعنی امراء و اغنیاء اور ارباب تنعم میں سے ہونے کا بھی ذکر ہوا ہے۔ اس مناسبت سے آخرت میں ان کی غذا تھوہر ہوگی۔ وہ اس کے پتوں اور کانٹوں کو چابیں اور اس پر کھولتا پانی پئیں گے۔ (ھیم) جمع ہے (اھیم) کی اھیم اس اونٹ کو کہتے ہیں جس کو ھیام یعنی تونس کی بیماری لا حق ہو۔ جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ پانی پیتا چلا جاتا ہے لیکن اس کی پیاس کسی طرح نہیں بجھتی
Top