Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (141 - 241)
Select Hadith
141
142
143
144
145
146
147
148
149
150
151
152
153
154
155
156
157
158
159
160
161
162
163
164
165
166
167
168
169
170
171
172
173
174
175
176
177
178
179
180
181
182
183
184
185
186
187
188
189
190
191
192
193
194
195
196
197
198
199
200
201
202
203
204
205
206
207
208
209
210
211
212
213
214
215
216
217
218
219
220
221
222
223
224
225
226
227
228
229
230
231
232
233
234
235
236
237
238
239
240
241
معارف الحدیث - کتاب الرقاق - حدیث نمبر 366
عَنْ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ ، وَهُوَ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الحَيَاءِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « دَعْهُ فَإِنَّ الحَيَاءَ مِنَ الإِيمَانِ » (رواه البخارى ومسلم)
شرم و حیا
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا گذر، انصار میں سے ایک شخص پر ہوا، اور وہ اس وقت اپنے بھائی کو حیا کے بارہ میں کچھ نصیحت و ملامت کر رہا تھا، تو آپ نے اس سے فرمایا کہ اس کو اس کے حال پر چھوڑ دو کیوں کہ حیا تو ایمان کا جز یا ایمان کا پھل ہے۔ (صحیح بخاری و مسلم)
تشریح
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ انصار میں سے کوئی صاحب تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے شرم و حیا کا وصف خاص طور سے عطا فرمایا تھا، جس کا قدرتی نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ اپنے معاملات میں نرم ہوں گے، سخت گیری کے ساتھ لوگوں سے اپنے حقوق کا مطالبہ بھی نہ کرتے ہوں گے، اور بہت سے موقعوں پر اسی شرم و حیا کی وجہ سے کھل کر باتیں بھی نہ کر پاتے ہوں گے، جیسا کہ اہلِ حیا کا عموماً حال ہوتا ہے، اور اُن کے کوئی بھائی تھے، جو ان کی اس حالت اور روش کو پسند نہیں کرتے تھے، ایک دن یہ بھائی ان صاحب حیا بھائی کو اس پر ملامت اور سرزنش کر رہے تھے کہ تم اس قدر شرم و حیا کیوں کرتے ہو، اسی حالت میں رسول اللہ ﷺ کا ان دونوں بھائیوں پر گذر ہوا، اور آپ نے ان کی باتیں سن کر ملامت و نصیحت کرنے والے بھائی سے ارشاد فرمایا کہ اپنے ان بھائی کو ان کے حال پہ چھوڑ دو، ان کا یہ حال تو بڑا مبارک حال ہے، شرم و حیا تو ایمان کی ایک شاخ یا ایمان کا پھل ہے اگر اس کی وجہ سے بالفرض دنیا کے مفادات کچھ فوت بھی ہوتے ہوں، تو آخرت کے درجے بے انتہا بڑھتے ہیں۔
Top