Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (141 - 241)
Select Hadith
141
142
143
144
145
146
147
148
149
150
151
152
153
154
155
156
157
158
159
160
161
162
163
164
165
166
167
168
169
170
171
172
173
174
175
176
177
178
179
180
181
182
183
184
185
186
187
188
189
190
191
192
193
194
195
196
197
198
199
200
201
202
203
204
205
206
207
208
209
210
211
212
213
214
215
216
217
218
219
220
221
222
223
224
225
226
227
228
229
230
231
232
233
234
235
236
237
238
239
240
241
معارف الحدیث - کتاب الرقاق - حدیث نمبر 365
عَنْ زَيْدِ بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِكُلِّ دِينٍ خُلُقًا ، وَخُلُقُ الْإِسْلَامِ الْحَيَاءُ " (رواه مالك مرسلا ورواه ابن ماجة والبيهقى فى شعب الايمان عن انس وابن عباس)
شرم و حیا
زید بن طلحہ سے روایت ہے وہ نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ ہر دین کا کوئی امتیازی وصف ہوتا ہے، اور دین اسلام کا امتیازی وصف حیا ہے۔ (موطا امام مالک، سنن ابن ماجہ و شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
حیا کی خاص اہمیت اور اس کے معنی کی وسعت جائے گا۔ اس حدیث میں اسی قسم کے تین مجرموں کے حق میں اعلان فرمایا گیا ہے کہ ان بدبختوں بدنصیبوں سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہم کلام نہ ہو گا، اور اُن کا تزکیہ بھی نہ فرمائے گا، اور آخرت میں یہ مجرم رب کریم کی نظر کرم سے بھی قطعی محروم رہیں گے۔ ایک بوڑھا زناکار، دوسرا جھوٹافرمانروا، تیسرا ناداری کی حالت میں تکبر کرنے والا۔ اور یہ اس لئے کہ جوانی کی حالت میں اگر کوئی شخص زنا کا مرتکب ہوا، تو اس کا یہ گناہ کبیرہ ہونے کے باوجود قابلِ درگزر بھی ہو سکتا ہے، کیوں کہ جوانی کی حالت میں شہوت سے مغلوب ہونا ایک فطری کمزوری ہے، لیکن اگر کوئی بوڑھا بڑھاپے میں یہ حرکت کرے، تو یہ اس کی طبیعت کی سخت خباثت کی نشانی ہے، اسی طرح اگر کوئی بے چارہ عام آدمی اپنی ضرورت نکالنے کے لیے جھوٹ بول جائے، تو اس کا گناہ بھی کبیرہ ہونے کے باوجود قابل معافی ہو سکتا ہے لیکن ایک صاحب اقتدار حکمران اگر جھوٹ بولتا ہے، تو یہ اس کی طبیعت کی انتہائی گندگی اور خدا سے بے خوفی کی نشانی ہے۔ ایسے ہی کوئی دولت مند اگر تکبر کرے تو انسان کی عام فطرت کے لحاظ سے کچھ زیادہ مستبعد نہیں۔ ع " چو بدولت برسی مست نہ گردی مردی " لیکن گھر میں فقر و فاقہ کے باوجود اگر کوئی شخص غرور و تکبر کی چال چلتا ہے تو بلا شبہ اس کی انتہائی دنائت اور کمینہ پن ہے۔ الغرض تینوں قسم کے یہ مجرم قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی ہمکلامی سے اور اس کی نظرِ کرم سے تزکیہ سے محروم رہیں گے، تزکیہ نہ کئے جانے کا مطلب بظاہر یہ ہے کہ ان کے گناہ معاف نہیں کئے جائیں گے، اور صرف عقیدہ یا بعض اعمال صالحہ کی بنیاد پر ان کو مومنین صالحین کے ساتھ شمار نہ کیا جائے گا، بلکہ ان کو سزا بھگتنی ہی بڑے گی۔ واللہ اعلم۔ شرم و حیا شرم و حیا ایک ایسا اہم فطری اور بنیادی وصف ہے جس کو انسا کی سیرت سازی میں بہت زیادہ دخل ہے، یہی وہ وصف اور خلق ہے جو آدمی کو بہت سے بُرے کاموں اور بری باتوں سے روکتا، اور فواحش و منکرات سے اس کو بچاتا ہے ا، اور اچھے اور شریفانہ کاموں کے لیے آمادہ کرتا ہے، الغرض شرم و حیا انسان کی بہت سی خوبیوں کی جڑ بنیاد اور فواحش و منکرات سے اس کی محافظ ہے، اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے اپنی تعلیم و تربیت میں اس پر بہت زیادہ زور دیا ہے۔ اس سلسلہ کے آپ کے چند ارشادات ذیل میں پڑھئے، اور اس وصف کو اپنے اندر پیدا کرنے اور ترقی دینے کی کوشش کیجئے۔ تشریح۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ ہر دین اور ہر شریعت میں اخلاق انسانی کے کسی خاص پہلو پر نسبتاً زیادہ زور دیا جاتا ہے، اور انسانی زندگی میں اسی کو نمایاں اور غالب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیم اور شریعت میں رحمدلی اور عفو و درگزر پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے (یہاں تک کہ مسیحی تعلیمات کا مطالعہ کرنے والے کو صاف محسوس ہوتا ہے کہ رحمدلی اور وعفو و درگزر ہی گویا ان کی شریعت کا مرکزی نقطہ اور ان کی تعلیم کی روح ہے) اسی طرح اسلام یعنی حضرت محمد، رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت اور تعلیم میں حیا پر خاص زور دیا گیا ہے۔ یہاں یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ قرآن و حدیث کی اصطلاح میں حیا کا مفہوم بہت وسیع ہے، ہمارے عرف اور محاورہ میں تو حیا کا تقاضا اتنا ہی سمجھا جاتا ہے کہ آدمی فواحش سے بچے یعنی شرمناک باتیں اور شرمناک کام کرنے سے پرہیز کرے، لیکن قرآن و حدیث کے استعمالات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حیا طبیعتِ انسانی کی اس کیفیت کا نام ہے کہ ہر نامناسب بات اور ناپسندیدہ کام سے اس کو انقباض اور اس کے ارتکاب سے اذیت ہو، پھر قرآن و حدیث ہی سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حیا کا تعلق صرف اپنے ابناء جنس ہی سے نہیں ہے، بلکہ حیا کا سب سے زیادہ مستحق وہ خالق و مالک ہے جس نے بندہ کو وجود بخشا اور جس کی پروردگاری سے وہ ہر آن حصہ پا رہا ہے، اور جس کی نگاہ سے اس کا کوئی عمل اور کوئی حال چھپا نہیں ہے، اس کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ شرم و حیا کرنے والے انسانوں کو سب سے زیادہ شرم و حیا اپنے ماں باپ کی، اور اپنے بڑوں اور محسنوں کی ہوتی ہے، اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ سب بڑوں سے بڑا، اور سب محسنوں کا محسن ہے، لہذا بندہ کو سب سے زیادہ شرم و حیا اسی کی ہونی چاہئے، اور اس حیا کا تقاضا یہ ہو گا کہ جو کام اور جو بات بھی اللہ تعالیٰ کی مرضی اور اس کے حکم کے خلاف ہو، آدمی کی طبیعت اس سے خود انقباض اور اذیت محسوس کرے اور اس سے باز رہے، اور جب بندہ کا یہ حال ہو جائے تو اس کی زندگی جیسی پاک اور اس کی سیرت جیسی پسندیدہ اور اللہ کی مرضی کے مطابق ہوگی ظاہر ہے۔ (اس حدیث کو امام مالکؒ نے موطا میں زید بن طلحہ تابعی سے مرسلاً روایت کیا ہے (یعنی ان صحابی کا ذکر نہیں کیا، جن سے یہ حدیث زید بن طلحہ کو پہنچی تھی) لیکن ابن ماجہ اور بیہقی نے اس حدیث کو اپنی سند کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے دو صحابیوں حضرت انسؓ اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے)۔
Top