Sunan Ibne-Majah 3045صحیح
سر منڈانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3045
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْمُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ ظَاهَرْتَ لِلْمُحَلِّقِينَ ثَلَاثًا، وَلِلْمُقَصِّرِينَ وَاحِدَةً؟ قَالَ: إِنَّهُمْ لَمْ يَشُكُّوا.
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا کہ اللہ کے رسول ! آپ نے بال منڈوانے والوں کے لیے تین بار دعا فرمائی، اور بال کتروانے والوں کے لیے ایک بار، اس کی کیا وجہ ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : انہوں نے شک نہیں کیا ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٦٤١٠، ومصباح الزجاجة : ١٠٥٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٥٣) (حسن )
وضاحت : ١ ؎: بلکہ جس حکم کو اللہ تعالیٰ نے پہلی بار بیان کیا اسی پر عمل کیا، قرآن شریف میں ہے : محلقين رؤوسکم ومقصرين (سورة الفتح : 27) تو پہلے حلق کو ذکر فرمایا۔
It was narrated that lbn ‘Abbas said: "It was said: O Messenger of Allah, why did you support (by supplicating for) those who shave (their heads) three times and those who cut,(their hair) only once? He said: Because they did not entertain any doubts.