Sunan Ibne-Majah 343صحیح

قضاء حاجت کے لئے جمع ہونا اور اس وقت گفتگو کرنا منع ہے

حدیث نمبر: 343
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُنَهَى عَنْ أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ.
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطہارة ٢٨ (٢٨١) ، سنن النسائی/ الطہا رة ٣١ (٣٥) ، (تحفة الأشراف : ٢٩١١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/ ٣٤١، ٣٥٠) (صحیح )
وضاحت : ١ ؎: ٹھہرے ہوئے پانی سے مراد وہ پانی ہے جو نہر اور دریا کے پانی کی طرح جاری نہ ہو، جیسے گڑھا، جھیل اور تالاب وغیرہ کا پانی ان میں پیشاب کرنا منع ہے، تو پاخانہ کرنا بدرجہ اولیٰ منع ہوگا۔ ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ ٹھہرے ہوئے پانی میں ویسے ہی سڑاند پیدا ہوجاتی ہے اور وہ بدبودار ہوجاتا ہے، اگر اس میں مزید نجاست اور گندگی ڈال دی جائے، تو یہ پانی مزید بدبودار ہوجائے گا، اور اس کی سڑاند سے قرب و جوار کے لوگوں کو تکلیف پہنچے گی، اور صحت عامہ میں خلل پیدا ہوگا، اور ماحول آلودہ ہوگا۔
It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah ﷺ forbade urinating into standing water