Sunan Ibne-Majah 314صحیح
پتھروں سے استنجا کرنا اور (استنجا میں) گوبر اور ہڈی (استعمال کرنے) سے ممانعت
حدیث نمبر: 314
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، قَالَ: لَيْسَ أَبُو عُبَيْدَةَ ذَكَرَهُ، وَلَكِنْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى الْخَلَاءَ، فَقَالَ: ائْتِنِي بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، فَأَتَيْتُهُ بِحَجَرَيْنِ وَرَوْثَةٍ فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ، وَقَالَ: هِيَ رِكْسٌ.
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کے لیے گئے اور فرمایا : میرے پاس تین پتھر لاؤ، عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ میں دو پتھر اور گوبر کا ایک ٹکڑا لے کر آیا تو آپ ﷺ نے دونوں پتھر لے لیے اور گوبر پھینک دیا، اور فرمایا : یہ ناپاک ہے ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٢١ (١٥٦) ، سنن النسائی/الطہارة ٣٨ (٤٢) ، (تحفة الأشراف : ٩١٧٠) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الوضوء ١٣ (١٧) ، مسند احمد (١/٣٨٨، ٤١٨، ٤٥٠) (صحیح )
وضاحت : ١ ؎: مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن مسعود (رض) سے فرمایا : گوبر نجس ہے، ایک اور پتھر لاؤ (ورجاله ثقات) ، علامہ ابن الجوزی فرماتے ہیں : ممکن ہے رسول ﷺ نے خود ہی تیسرا پتھر اٹھا لیا ہو ، ملاحظہ ہو تحفۃ الأحوذی ( ١ /٦٩) ، چناچہ آگے کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ تین پتھر لینا سنت ہے۔
It was narrated from ‘Abdulláh bin Mas’ud: “The Messenger of Allah ﷺ went to the toilet and said: ‘Bring me three stones.’ So I brought him two stones and a piece of dung. He took the two stones and threw the dung away, saying: ‘It is impure.’” (Sahih)