Sunan Ibne-Majah 1019صحیح
نمازی کو سلام کیا جائے تو وہ کیسے جواب دے ؟
حدیث نمبر: 1019
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ فَقِيلَ لَنَا: إِنَّ فِي الصَّلَاةِ لَشُغْلًا.
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ ہم نماز میں سلام کیا کرتے تھے، پھر ہمیں ارشاد ہوا کہ نماز میں خود ایک مشغولیت ہے ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٩٥٢٥، ومصباح الزجاجة : ٣٦٥) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/العمل في الصلاة ٣ (١٢٠١) ، ١٥ (١٢١٦) ، المناقب ٣٧ (٣٨٧٥) ، صحیح مسلم/ المساجد ٧ (٥٣٨) ، سنن ابی داود/الصلاة ١٧٠ (٩٢٣) ، مسند احمد (١/٣٧٦، ٤٠٩) (صحیح )
وضاحت : ١ ؎: جس میں نمازی کو مصروف رہنا چاہیے، اور دوسرا کام نہیں کرنا چاہیے، وہ کام جس میں نمازی کو مصروف رہنا چاہیے اللہ تعالیٰ کی یاد ہے، اور اس سے خشوع کے ساتھ دل لگانا۔
It was narrated that Abdullah said: "We would greet others during the prayer, and it was said to us: During the prayer one is preoccupied:" (Sahih)