Sunan Ibne-Majah 1018صحیح
نمازی کو سلام کیا جائے تو وہ کیسے جواب دے ؟
حدیث نمبر: 1018
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ، ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَأَشَارَ إِلَيَّ، فَلَمَّا فَرَغَ دَعَانِي فَقَالَ: إِنَّكَ سَلَّمْتَ عَلَيَّ آنِفًا وَأَنَا أُصَلِّي.
جابر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھے کسی ضرورت کے تحت بھیجا، جب میں واپس آیا تو آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا، تو آپ ﷺ نے اشارے سے جواب دیا، جب آپ نماز سے فارغ ہوگئے تو مجھے بلایا، اور پوچھا : ابھی تم نے مجھے سلام کیا، اور میں نماز پڑھ رہا تھا ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٧ (٥٤٠) ، سنن النسائی/السہو ٦ (١١٩٠) ، (تحفة الأشراف : ٢٩١٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٣٤) (صحیح )
وضاحت : ١ ؎: یہ آپ ﷺ نے اس لئے فرمایا کہ جابر (رض) کو جواب نہ دینے کی وجہ معلوم ہوجائے اور ان کے دل کو رنج نہ ہو، سبحان اللہ آپ کو اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کا کس قدر خیال تھا۔
It was narrated that Jabir said: "The Prophet ﷺ sent me on an errand, then I caught up with him while he was performing prayer, and I greeted him. He gestured to me, then when he finished, he called me and said:You greeted me before, but I was performing prayer:" (Sahih)