Sunan Ibne-Majah 3701صحیح
بچوں اور عورتوں کو سلام کرنا۔
حدیث نمبر: 3701
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، قَالَ: سَمِعَهُ مِنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَتْهُأَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ، قَالَتْ: مَرَّ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ، فَسَلَّمَ عَلَيْنَا.
اسماء بنت یزید (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہم عورتوں کے پاس گزرے تو آپ نے ہمیں سلام کیا ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الأدب ١٤٨ (٥٢٠٤) ، سنن الترمذی/الاستئذان ٩ (٢٦٩٧) ، (تحفة الأشراف : ١٥٧٦٦) ، وقد أخرجہ : (حم ٦/٤٥٢، ٤٥٧، سنن الدارمی/الإستئذان ٩ (٢٦٧٩) (صحیح )
وضاحت : ١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اجنبی عورت کو سلام کرنا جائز ہے، شرط یہ ہے کہ وہ کئی عورتیں ہوں، ہاں اگر عورت اکیلی ہو اور اس کے ساتھ کوئی محرم نہ ہو تو فتنے کے خدشے کی وجہ سے سلام نہ کرنا بہتر ہے۔
Asma bint Yazid said: "The Messenger of Allah ﷺ passed by us, among (a group of) women, and he greeted us with (the greeting of) peace."