Sunan Ibne-Majah 3667ضعیف
والد کو اولاد کے ساتھ حسن سلوک کرنا خصوصاً بیٹیوں سے اچھا برتاؤ کرنا۔
حدیث نمبر: 3667
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيٍّ، سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَفْضَلِ الصَّدَقَةِ؟ ابْنَتُكَ مَرْدُودَةً إِلَيْكَ لَيْسَ لَهَا كَاسِبٌ غَيْرُكَ.
سراقہ بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا میں تم کو افضل صدقہ نہ بتادوں ؟ اپنی بیٹی کو صدقہ دو ، جو تمہارے پاس آگئی ہو ١ ؎، اور تمہارے علاوہ اس کا کوئی کمانے والا بھی نہ ہو ۔
تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٣٨٢١، ومصباح الزجاجة : ١٢٧٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٧٥) (ضعیف) (علی بن رباح کا سماع سراقہ (رض) سے نہیں ہے اس لئے سند میں انقطاع ہے )
وضاحت : ١ ؎: یعنی شوہر کی موت یا طلاق کی وجہ سے۔
It was narrated from Suraqah bin Malik that the Prophet ﷺ said: "Shall I not tell you of the best charity? A daughter who comes back to you and has no other breadwinner apart from you."