Sunan Ibne-Majah 3666صحیح
والد کو اولاد کے ساتھ حسن سلوک کرنا خصوصاً بیٹیوں سے اچھا برتاؤ کرنا۔
حدیث نمبر: 3666
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ، عَنْ يَعْلَى الْعَامِرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَ الْحَسَنُ، وَالْحُسَيْنُ يَسْعَيَانِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَمَّهُمَا إِلَيْهِ، وَقَالَ: إِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ.
یعلیٰ عامری (رض) کہتے ہیں کہ حسن اور حسین (رضی اللہ عنہما) دونوں دوڑتے ہوئے نبی اکرم ﷺ کے پاس آے تو آپ ﷺ نے ان دونوں کو اپنے سینے سے چمٹا لیا، اور فرمایا : یقیناً اولاد بزدلی اور بخیلی کا سبب ہوتی ہے ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١١٨٥٣، ومصباح الزجاجة : ١٢٧٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٧٢) (صحیح )
وضاحت : ١ ؎: یعنی آدمی اولاد کی محبت میں مال خرچ کرنے میں بخل کرتا ہے، اور اولاد کے لئے مال چھوڑ جانا چاہتا ہے، اور جہاد سے سستی کرتا ہے۔
It was narrated from Yala AI-Amiri that he said: "Hasan and Husain came running to the Prophet ﷺ and he embraced them and said: Children make a man a miser and a coward."