Sunan Abu Dawood 5182صحیح
اجازت لیتے وقت کتنی بار السلام علیکم کہنا چاہیے
حدیث نمبر: 5182
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّ أَبَا مُوسَىاسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ فِيهِ: فَانْطَلَقَ بأَبِي سَعِيدٍ فَشَهِدَ لَهُ، فَقَالَ: أَخَفِيَ عَلَيَّ هَذَا مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَلْهَانِي السَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ وَلَكِنْ سَلِّمْ مَا شِئْتَ، وَلَا تَسْتَأْذِنْ.
عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ ابوموسیٰ (رض) نے عمر (رض) سے اجازت مانگی، پھر راوی نے یہی قصہ بیان کیا، اس میں ہے یہاں تک کہ ابوموسیٰ ابو سعید خدری (رض) کو لے کر آئے، اور انہوں نے گواہی دی، عمر (رض) نے کہا رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث مجھ سے پوشیدہ رہ گئی، بازاروں کی خریدو فروخت اور تجارت کے معاملات نے اس حدیث کی آگاہی سے مجھے غافل و محروم کردیا، (اب تمہارے لیے اجازت ہے) سلام جتنی بار چاہو کرو، اندر آنے کے لیے اجازت طلب کرنے کی حاجت نہیں ہے۔
تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (٥١٨٠) ، (تحفة الأشراف : ٤١٤٦) (صحیح) (لیکن آخری ٹکڑا جتنی بار چاہو ... صحیح نہیں ہے، اور یہ صحیحین میں ہے بھی نہیں )
Ubaid bin Umair said: Abu Musa asked Umar for permission to enter the house. This version has: he went with Abu sa’ld who testified to it. He said Did this practice of the Messenger of Allah ﷺ remain hidden from me? My engagement in the transaction in the market made me oblivious of it. Now give me salutation as you wish; and do not ask permission.