خلفائے اندلس
موسیٰ بن موسیٰ سپہ سالار کی بغاوت
ابھی یہ فتنہ فرو ہی ہوا تھا کہ شمال کی جانب سے خبر پہنچی کہ موسیٰ بن موسیٰ جو عبدالرحمن ثانی کا مشہور سپہ سالار اور سرحد شمالی کا محافظ مقرر کیا گیا تھا۔ باغی ہو کر عیسائیوں سے مل گیا ہے اس کی سرکوبی کے لیے حرث بن بدیع کو بھیجا گیا۔ موسیٰ مع عیسائی لشکر کے مقابلہ پر آ گیا مگر حرث نے شکست دے کر بھگا دیا۔ موسیٰ نے مقام طیطلہ میں قیام کیا اور حرث مقام سرقسطہ میں واپس ہو کر مقیم ہوا عرصہ تک لڑائیاں ہوتی رہیں آخر موسیٰ طیطلہ چھوڑ کر مقام اربط میں چلا گیا اور طیطلہ پر حرث نے قبضہ کیا۔ آخر عیسائی بادشاہ غرسیہ فوج لے کر موسیٰ کی کمک کو پہنچا اور جنگ و جدل کا ہنگامہ خوب زور شور سے جاری ہوا۔ ان ہنگامہ آرائیوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ مقام البہ میں ایک لڑائی کے اندر موسیٰ نے حرث کو گرفتار کرا دیا اور بادشاہ فرانس کے پاس بھیج دیا۔ عبدالرحمن ثانی کو اس خبر کے سننے سے سخت صدمہ ہوا اس نے اپنے بیٹے منذر کو ایک زبردست فوج دے کر موسیٰ کی طرف روانہ کیا۔ اس عرصہ میں موسیٰ نے طیطلہ پر قبضہ کر لیا تھا۔ منذر نے ۲۲۹ھ میں غرسیہ نامی سردار والی نببلونہ کو جو موسیٰ کی حمایت و امداد کے لیے آیا تھا ایک لڑائی میں قتل کر دیا۔ موسیٰ نے اپنے بیٹے کو بطور یرغمال منذر کے پاس بھیج کر صلح کی درخواست منظور کر لی اور موسیٰ کو طیطلہ کی حکومت پر مامور کر دیا۔