خلفائے اندلس
علی بن نافع کی اہم معاشرتی اصلاحیں
اس نے اندلس میں بڑی بڑی اہم معاشرتی اصلاحیں کیں اور تکلفات و زینت کے عجیب عجیب طریقے ایجاد کئے جو بہت جلد مقبول عوام ہوئے۔ اس کی کوششوں سے قرطبہ کے اندر آب رسانی کے نل لگائے گئے اور پھر بہت جلد اندلس کے دوسرے شہروں میں بھی نلوں کا سلسلہ جاری ہو انئے نئے پر تکلف اور لذیذ و مقوی کھانے اور خوبصورت لباس اسی کی ایجاد ہیں۔ غرض اس ایک شخص کی کوششوں اور ایجادوں نے نہ صرف تمام ملک اندلس بلکہ تمام یورپ پر اپنا اثر ڈالا۔ چھری کانٹے کے ساتھ کھانا کھانا بھی اسی کی ایجاد ہے اور یورپ والوں نے اندلس کے مسلمانوں ہی سے چھری کانٹے کے استعمال کو سیکھا تھا۔۱؎ علی بن نافع کو سلطان عبدالرحمن ثانی کے مزاج میں بخوبی رسوخ حاصل تھا اور سلطان اس کی بڑی عزت کرتا تھا‘ مگر اس نے کبھی کسی سیاسی معاملہ میں دخل نہیں دیا بلکہ اپنی تمام تر توجہ کو اصلاح معاشرت ہی کی جانب مبذول رکھا‘ اسی لیے وہ تمام ملک میں ہر دل عزیز و محبوب تھا اور کوئی اس کا دشمن و مخالف کبھی پیدا نہیں ہوا۔ اندلس والوں نے جہاں اس شخص کی وجہ سے لباس و غذا و مکان کے تکلفات سیکھے وہاں انھوں نے موسیقی کا شوق بھی اس سے حاصل کیا۔۲؎ دوسرے لفظوں میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ علی بن نافع نے اندلس پہنچ کر وہاں کے سپاہی پیشہ مسلمانوں کو عیش پسند اور نازک مزاج بنانے کی موثر کوشش کی۔