خلفائے اندلس

مالکیوں کی مخالفت

۱۹۸ھ میں مالکی گروہ نے پھر سر اٹھایا۔ ایک مرتبہ پہلے ان لوگوں کی کوششوں اور سازشوں کا قلع قمع کر دیا گیا تھا۔ مگر اب جبکہ عیسائی اور عجمی لوگوں کی فوج تیار ہونے لگی تو مولویوں نے سلطان کے خلاف پھر فتویٰ بازی شروع کر دی اور عجمیوں کے وجود کو شہر قرطبہ کے لیے ایک لعنت قرار دیا گیا۔ پچھلی سازش میں قاضی یحییٰ پیش پیش تھے اور ان کی نسبت اہل اندلس بہت عقیدت رکھتے اور ان کو ولی کامل بھی جانتے تھے۔ اسی لیے حکم نے قاضی یحییٰ کو ماخوذ نہیں کیا تھا اور ان کی ہر ایک مخالف سلطنت کوشش سے چشم پوشی اور درگذر کا سلوک ہوا تھا۔ اس مرتبہ بھی انہی کے ذریعہ طبقہ علماء اور ان کے معتقدین میں جذبات نفرت نے ترقی کی اور قرطبہ والوں نے یہاں تک مبارزت کی کہ جہاں کہیں کوئی اکیلا عجمی مل جاتا اس کو قتل کر دیتے۔ اس لیے عجمی لوگ شہر میں اور شہر کے بازاروں میں جب کبھی نکلتے تو کئی کئی مل کر نکلتے ورنہ اپنے فوجی کیمپ ہی میں رہتے۔