خلفائے اندلس
عیسائیوں سے جھڑپیں
آئے دن کی اس بغاوت و سرکشی اور ہنگامہ آرائی کو دیکھ کر اور باغیان طیطلہ کی اس سزا دہی سے فارغ ہو کر سلطان حکم نے عیسائیوں کے خلاف جو شمالی اندلس پر قابض اور دامن جبل البرتات پر برشلونہ تک متصرف ہو چکے تھے۔ معمولی فوجی دستے بھیجے لیکن پوری طاقت سے اس طرف متوجہ ہونا مناسب نہ سمجھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ شمال میں لڑائیوں کا سلسلہ جاری رہا‘ کبھی مسلمان عیسائیوں کو شکست دیتے اور کبھی خود ان سے شکست کھا جاتے۔ سات آٹھ برس تک یہی سلسلہ جاری رہا چونکہ مسلمانوں کی پوری اور بڑی طاقت عیسائیوں کے مقابلے پر نہیں بھیجی گئی تھی بلکہ صرف عیسائیوں کی پیش قدمی کا روکنا مد نظر تھا لہٰذا ان معرکہ آرائیوں کا نتیجہ عیسائیوں کے حق میں بہت ہی مفید ثابت ہوا ان کے دلوں سے مسلمانوں کا رعب جاتا رہا۔ عیسائیوں کے حوصلے بڑھ گئے اور وہ مسلسل مصروف جنگ رہ کر لڑائیوں میں خوب مشاق اور چست ہو گئے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ سلطان حکم کے فوجی دستوں نے عیسائیوں کی ریاست گاتھک مارچ‘ ریاست السیٹریاس اور سرکشان جلیقیہ کو نہایت شوق وتندہی کے ساتھ فوجی مشق کرائی اور ان کو میدان جنگ میں لڑنے کی تعلیم دے کر زبردست سپاہی بنا دیا۔ مگر سلطان حکم اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ اختیار بھی نہیں کر سکتا تھا کیونکہ اس کو باشندگان اندلس کی نسبت بدظنی پیدا ہو گئی تھی۔