خلفائے اندلس

حکم کے چچا سلیمان اور عبداللہ کی بغاوت

تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ سلطان ہشام کا بھائی سلیمان افریقہ (مراکش) میں مقیم تھا‘ جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے‘ سلیمان خط و کتابت کے ذریعہ اندلس کے اندر بھی مادئہ فساد و بغاوت پیدا کرنے میں مصروف تھا‘ ہشام کا دوسرا بھائی عبداللہ طیطلہ کے متصل اپنی جاگیر میں مقیم تھا‘ سلطان ہشام کی وفات کا حال سن کر عبداللہ فوراً طیطلہ سے بھاگ کر اپنے بھائی سلیمان کے پاس گیا‘ جو مراکش کے شہر تنجیر میں مقیم تھا اور اس کے پاس بربریوں اور ڈاکہ زنوں کی ایک کافی تعداد موجود تھی‘ وہاں کے علاقے کو ان لوگوں نے اپنی لوٹ مار اور ڈاکہ زنی کا جولان گاہ بنا رکھا تھا‘ تبخیر میں دونوں بھائیوں نے سلطنت پر قبضہ کرنے کا مشورہ کیا‘ شارلیمین بادشاہ فرانس سے اور دوسرے سرحدی رئیسوں سے پہلے ہی سلیمان نے ساز باز کر رکھا تھا‘ اب تجویز یہ قرار پائی کہ عبداللہ خود شارلیمین کی خدمت میں فرانس جائے اور اس کو اندلس پر حملہ کرنے کی ترغیب دے‘ یعنی بادشاہ فرانس کو اس بات پر آمادہ کرے کہ وہ اندلس پر فوج کشی کر کے اس بغاوت کو جو ہم اندرون ملک میں برپا کریں گے کامیاب بنا دے۔ عبداللہ شارلیمین کے پاس گیا‘ وہاں شارلیمین نے وعدہ کیا اور ایک جرار فوج مرتب کر کے اپنے بیٹے کی سپہ سالاری میں سرحد اندلس پر روانہ کر دی۔ عبداللہ نے واپس آ کر طیطلہ کے عامل کو اپنے حسب منشا بغاوت پر آمادہ کر کے طیطلہ پر خود قبضہ کر لیا‘ طیطلہ اندلس کا قدیمی دارالسلطنت یعنی شاہان و زیگاتم کا دارالحکومت تھا‘ یہاں عیسائیوں کی آبادی بہت زیادہ تھی اور مسلمان بھی وہ نو مسلم تھے جو اپنے عیسائی بزرگوں اور قدیمی عیسائی بادشاہوں کے افسانے کو فخریہ بیان کرنے اور یاد رکھنے کے عادی تھے‘ اس لیے طیطلہ کے عیسائیوں اور عیسائیوں کے ہم قوم نومسلموں کو بڑی آسانی سے بغاوت پر آمادہ کیا جا سکتا تھا‘ یہاں امیر عبدالرحمن کو بھی بہت عزت و محبت کے ساتھ یاد کیا جاتا اور عبدالرحمن کے بیٹے عبداللہ کو بمقابلہ عبدالرحمن کے پوتے حکم کے زیادہ مستحق تکریم سمجھا جاتا تھا‘ غرض بکثرت ایسے اسباب موجود تھے کہ عبداللہ کو طیطلہ پر قبضہ کرنے میں بڑی آسانی ہوئی‘ ادھر سلیمان بن عبدالرحمن نے مراکش سے اندلس کے صوبہ بلنسیہ میں پہنچ کر اپنے آپ کو خاندان سلطنت میں سب سے زیادہ مسن اور بڑی عمر کا شخص ہونے کی وجہ سے مستحق سلطنت بتا کر اپنی امارت و سلطنت کا اعلان کر دیا‘ اور اس صوبہ میں اپنا عمل دخل بٹھایا۔ سلیمان و عبداللہ کے اعلان بغاوت کے متصل ہی حسب قرار داد شارلیمین کے بیٹے نے جبل البرتات سے گزر کر اندلس کے میدان میں قدم رکھا اور کئی شہروں کو فتح کرنے کے بعد برشلونہ کا محاصرہ کر لیا‘ برشلونہ کے عامل زید نے شارلیمین کے بیٹے کی اطاعت قبول کر لی مگر قلعہ کے اندر فرانسیسی فوج کو داخل نہیں ہونے دیا‘ ادھر ایکیوٹین کی ریاست کے فرمانروا مسمی لوئی نے جبل البرتات کے مغربی حصے کو عبور کر کے اندلس کے شمالی و مغربی علاقہ کو تاخت و تاراج کر ڈالا اور لاردہ و دشقہ پر قابض و متصرف ہو گیا‘ اندرون ملک میں سلیمان و عبداللہ نے ملک کے نہایت اہم اور مرکزی شہروں اور صوبوں پر قبضہ کر لیا اور شمال کی جانب سے عیسائیوں نے زبردست حملہ کر کے شمالی اندلس کو تہ و بالا کر دیا‘ یہ خطرات معمولی نہ تھے اور اندلس کے ہاتھ سے نکل جانے میں کوئی کسر باقی نہ رہی تھی۔