خلفائے اندلس

ہشام کی زندگی پر تبصرہ

مسجد قرطبہ کی تعمیر میں اسی ہزار دینار امیر عبدالرحمن نے صرف کئے تھے اور ایک لاکھ ساٹھ ہزار دینار سلطان ہشام نے اس مسجد کی تعمیر و تکمیل میں خرچ کئے‘ سلطان ہشام اپنے باپ کی طرح سفید مگر نہایت سادہ اور کم قیمت لباس پہنتا تھا اس کو شکار کا شوق تھا‘ لیکن نہ ایسا کہ امور سلطنت اور دین و ملت کے کاموں میں حارج ہو آخر ایّام حیات میں اس کو بھی ترک کر دیا تھا‘ حاجت مندوں کے لیے اس کا دربار ہمیشہ کھلا ہوا تھا‘ مظلوموں کو اپنی داد رسی میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ کبھی پیش نہیں آتی تھی‘ محتاجوں کی خبر گیری میں وہ خود راتوں کو اپنا آرام ترک کر دیتا تھا‘ مسافروں کو خود لے جا کر کھانا کھلاتا‘ اندھیری راتوں میں شہر کے گلی کوچوں میں گشت کرتا اور محتاجوں‘ بیوائوں‘ مسکینوں کی دستگیری میں بڑا لطف پاتا‘ چوروں‘ ڈاکوئوں اور مجرموں سے جو زر جرمانہ وصول ہوتا وہ سرکاری خزانہ میں داخل نہ ہوتا بلکہ رعایا ہی کے سود و بہبود میں صرف کیا جاتا‘ لڑائیوں میں جو لوگ اتفاقاً عیسائیوں کی قید میں چلے جاتے ان کو سرکاری خزانہ سے فدیہ دے کر آزاد کرا دیا جاتا‘ سلطان ہشام نے قسم کھانے کو ایک بھی مسلمان عیسائیوں کی قید میں باقی نہ چھوڑا سب کو آزاد کرا لیا تھا‘ اندلس میں ایک مسلمان نے مرتے وقت وصیت کی تھی کہ اس کے ترکہ سے ایک مسلمان قیدی عیسائیوں کی قید سے آزاد کرایا جائے‘ چنانچہ تمام عیسائی ممالک کو چھان مارا مگر کوئی مسلمان عیسائیوں کی قید میں نہ ملا کیونکہ سلطان ہشام نے پہلے ہی تمام مسلمانوں کو آزاد کرا دیا تھا۔ سلطان ہشام ایک مکان خریدنا چاہتا تھا اور اس مکان کے مالک سے گفتگو ہو رہی تھی‘ اسی اثناء میں سلطان کو معلوم ہوا کہ اس مکان کے قریب رہنے والا ایک شخص اس مکان کو خریدنا چاہتا ہے مگر وہ سلطان کی وجہ سے اس مکان کی خریداری کے ارادے کو ترک کر چکا ہے‘ یہ سن کر سلطان ہشام نے اس مکان کو نہیں خریدا۔ سلطان ہشام نے ایسے تجربہ کار اور دین دار لوگ مقرر کئے تھے‘ جو صوبوں کے عاملوں کے طرز حکومت‘ عدل و انصاف اور دفاتر کی جانچ پڑتال کرتے اور ہر ایک صوبہ میں جا کر وہاں کی رعایا سے وہاں کے حاکموں کے متعلق شکایات سنتے تھے۔ سلطان ہشام کے عہد حکومت میں قرطبہ کے اندر وہاں کے امیروں اور مال دار لوگوں نے بڑی بڑی خوبصورت اور عظیم الشان عمارتیں بنوائیں‘ جس سے شہر کی رونق اور خوبصورتی میں بہت اضافہ ہو گیا تھا‘ مدارس اور علمی مجالس کا سلسلہ تو امیر عبدالرحمن ہی کے زمانے سے خوب زور و شور کے ساتھ اندلس میں جاری تھا‘ لیکن سلطان ہشام نے ان علمی ترقیات کے سلسلے کو ترقی دینے کے علاوہ سب سے بڑا کام یہ کیا کہ مدارس میں عربی زبان کو لازمی قرار دیا‘ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ چند روز میں اندلس کے عیسائی عربی زبان سے واقف ہو کر قرآن مجید اور دین اسلام سے واقفیت حاصل کرنے کے قابل ہوئے اور بڑی کثرت سے بہ طیب خاطر اسلام میں داخل ہونے لگے اور عیسائیوں کی وہ وحشت اور نفرت جو مسلمانوں سے تھی یکسر دور ہو کر اس کی جگہ مسلمانوں اور عیسائیوں میں تعلقات محبت و مودت قائم ہونے لگے‘ عربی زبان کے لازمی قرار دینے کا اثر اشاعت اسلام کے لیے بے حد مفید ثابت ہوا‘ عیسائیوں کے اندر مسلمانوں کا احترام پیدا ہوا اور وہ اپنے عقائد و خیالات کی نا درستی اور غلطی سے واقف ہونے لگے‘ دونوں قومیں ایک دوسرے کی رعایت کرنے لگیں اور یہاں تک نوبت پہنچی کہ مسلمان عام طور پر عیسائی عورتوں سے شادیاں کرنے لگے‘ عیسائیوں نے خود ہی اسلامی لباس پہننا شروع کر دیا۔ سلطان ہشام کے عادات و خصائل اور طرز زندگی میں سیدنا عمر بن عبدالعزیز aکے ساتھ بہت مشابہت تھی اندلس کی تمام رعایا نے ہشام کو ’’سلطان عادل‘‘ کا خطاب دیا تھا‘ اور اسی نام سے اس کا ہر جگہ ذکر کیا جاتا تھا۔ سلطان ہشام اپنے باپ عبدالرحمن سے زیادہ عابد‘ زاہد اور مذہبی شخص تھا‘ امیر عبدالرحمن کی سطوت اور بانی سلطنت ہونے کی حیثیت نے مولویوں اور مولوی مزاج لوگوں کو دربار شاہی میں ایک مناسب درجہ تک اقتدار حاصل کرنے کا موقعہ دیا تھا‘ لیکن سلطان ہشام کے عہد حکومت میں فقہا کا اقتدار سب پر فائق تھا۔ اسی زمانہ میں فقہا کے الگ مذاہب کی بنیاد رکھی جا رہی تھی۔۱؎ سیدنا امام مالک بن انس کی مدینہ میں بڑی شہرت تھی اور حجاز میں فقہ مالکی کی پیروی عام طور پر لوگ کرنے لگے تھے‘ سیدنا مالک کی خدمت میں اندلس کے بعض مسلمان آئے اور کچھ عرصہ رہ کر اندلس واپس گئے‘ سیدنا امام مالک نے سلطان ہشام کے حالات سن کر بڑی محبت و عقیدت کا اظہار کیا‘ چنانچہ وہ فرمایا کرتے تھے کہ دنیا میں کوئی شخص اگر خلیفتہ المسلمین ہونے کا مستحق ہے تو وہ صرف ہشام بن عبدالرحمن ہے‘ امام صاحب کا یہ خیال بالکل درست اور بجا تھا‘ کیوں کہ ہشام علاوہ عابد زاہد ہونے کے عقل مند و مدبر اور بہادر بھی تھا وہ بہادری اور قابلیت سپہ سالاری میں اپنے باپ کا ہمسر اور زہد و عبادت میں اپنے باپ سے بڑھ کر تھا۔سیدنا امام مالک a کے یہ کلمات عباسیوں کو سخت ناگوار گذرتے تھے‘ اور اسی لیے عباسیوں کے ہاتھوں سے انہوں نے اذیتیں برداشت کیں‘ ہشام کے ابتدائی عہد حکومت میں فرعون بن عباس‘ عیسیٰ بن دینار‘ اور سعید بن ابی ہند جو ملک اندلس کے مشہور فقہاء اور علماء میں سے تھے‘ حج کے ارادے سے مکہ معظمہ کی طرف روانہ ہوئے ان کے ساتھ اور بھی علماء اور اکابر تھے‘ ان لوگوں کی جب سیدنا مالک بن انس سے ملاقات ہوئی تو وہ بہت متاثر ہوئے چند روز ان کی صحبت سے مستفیض ہو کر اندلس واپس گئے‘ اور سیدنا امام مالک کے خیالات و عقائد کی اشاعت کرنے لگے‘ ان کی تبلیغ کا یہ اثر ہوا کہ اندلس کے قاضی القضاۃ ابوعبداللہ زید نے بھی مالکی مسلک کو پسند کر لیا‘ سلطان ہشام ان لوگوں کی سب سے زیادہ قدر و منزلت کرتا اور ان ہی لوگوں کو زیادہ اپنی صحبت میں رکھتا تھا۔ لہٰذا سلطان نے بھی ۱؎ابن جبیر اندلسی (المتوفی ۶۱۴ھ) نے اپنے سفرنامہ میں اپنا آنکھوں دیکھا واقعہ بیان کیا ہے‘ جس میں انہوں نے بیت اللہ شریف میں حنبلی‘ شافعی‘ حنفی اور مالکی چار مصلوں کے قائم ہونے اور مسجد حرام‘ مکہ میں ایک ہی وقت میں ان چاروں مسالک کی الگ الگ نماز پڑھنے کا ذکر کیا ہے۔ یعنی اس وقت فرقہ بندی کا اتنا زور تھا کہ بیت اللہ شریف میں چاروں مسالک کے پیروکار اپنی الگ الگ نماز پڑھتے تھے۔ (بحوالہ دعوت تحقیق‘ صفحہ ۸ش سید وقار علی شاہ) سیدنا امام مالک کے مذہب کو قبول کر کے حکم دیا کہ ہر سال سرکاری خزانہ سے ان لوگوں کے مصارف برداشت کئے جائیں جو سیدنا امام مالک کی خدمت میں فقہ اور حدیث کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے جائیں۔ چنانچہ نو مسلم عیسائیوں اور نومسلموں کی اولاد نے اس طرف زیادہ توجہ کی اور حقیقت یہ ہے کہ ان نومسلموں میں دینی احکام کی پابندی اور عبادات کا زیادہ شوق تھا‘ سلطان ہشام اور شیخ الاسلام ابوعبداللہ کے مالکی مسلک اختیار کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ سلطنت کا مذہب مالکی ہو گیا اور تمام ملک میں مالکی فقہ کے موافق قاضیوں کے فیصلے صادر ہونے لگے۱؎ ہشام کے عہد حکومت میں صدقات و زکٰوۃ‘ کتاب و سنت کے بالکل موافق وصول کئے جاتے تھے۔