خلفائے اندلس

صوبہ اربونیہ کی بغاوت کا استیصال

عبدالملک نے اس مہم میں ایک اور عجیب حرکت کی کہ جلیقیہ ایسٹریاس‘ اربونیہ اور جنوبی فرانس کے سرکش عیسائیوں کو جو میدان جنگ میں مسلمانوں نے گرفتار کئے تھے‘ شہر ناربون میں یہ حکم سنایا کہ تمہاری رہائی اس طرح ہو سکتی ہے کہ شہر ناربون کی شہر پناہ کو گرا کر اس کے پتھر شہر قرطبہ میں پہنچائو‘ چنانچہ ان عیسائیوں نے شہر کی فصیل کے پتھروں کو قرطبہ پہنچایا‘ قرطبہ اور ناربون کے درمیان کئی سو کوس کا فاصلہ تھا‘ راستے میں بہت سے دریائوں اور پہاڑوں کی گھاٹیوں کو عبور کرنا پڑتا تھا‘ ایک ایک قیدی نے ایک ایک چھوٹا پتھر اپنے کندھے پر رکھ لیا‘ جو بڑے تھے ان کو گاڑیوں میں لاد کر قیدیوں نے کھینچا‘ بعض متوسط درجہ کے پتھروں کو دو دو آدمیوں نے ڈولی کی طرح باندھ کر اور ایک بانس یا لکڑی میں لٹکا کر اٹھایا‘ اسی طرح شہر ناربون کی فصیل کے جس قدر پتھر یہ قیدی اٹھا سکتے تھے اٹھائے اور کوچ و مقام کرتے ہوئے شاہی دستہ فوج کی نگرانی میں قرطبہ تک لائے‘ ان پتھروں سے مسجد قرطبہ کی مشرقی دیوار یا مشرقی دیوار کا ایک حصہ تعمیر ہوا‘ عبدالملک نے ان قیدیوں سے یہ مشقت لے کر ان کو حسب وعدہ رہا کر دیا اور عیسائی ریاستیں سزا دہی کے بعد اقرار اطاعت لے کر پھر عیسائیوں کے سپرد کر دی گئیں‘ کیوں کہ ان شمالی اور پہاڑی علاقوں کو عرب سردار سرد آب و ہوا کے سبب پسند نہ کرتے اور زیادہ قیمتی نہ جانتے تھے‘ یہی وجہ تھی‘ کہ ان شمالی صوبوں میں مسلمانوں کی آبادی بہت ہی کم تھی جنوبی اندلس میں مسلمانوں کی آبادی زیادہ تھی اور یہیں کے عیسائی باشندے بھی زیادہ اسلام میں داخل ہو چکے تھے۔