خلفائے اندلس

باغیوں کا استیصال

فتح قرمونہ کے بعد امیر عبدالرحمن نے اپنے خادم بدر اور تمام بن علقمہ کو فوج دے کر طیطلہ کی جانب روانہ کیا‘ ایک سخت اور خوں ریز جنگ کے بعد بدر اور تمام کو باغیان طیطلہ پر فتح مبین حاصل ہوئی‘ ہشام بن عبدربہ فہری‘ حیٰوۃ بن ولید یحصبی‘ عثمان بن حمزہ بن عبیداللہ بن عمر بن خطاب وغیرہ باغیوں کے بڑے بڑے سردار گرفتار ہوئے‘ ان سرداروں کو لے کر جب بدر اور تمام قرطبہ کے قریب پہنچے تو شہر سے باہر ہی ان باغی سرداروں کو سروریش مونڈ کر۱؎ اور ذلت کے ساتھ گدہوں پر سوار کرا کر شہر کے اندر لے گئے‘ جہاں امیر عبدالرحمن کے حکم سے ان کو قتل کر دیا گیا۔ علاء بن مغیث کے ساتھ بہت سے یمنی قبائل شامل ہو گئے تھے اور ان میں سے اکثر آدمی جنگ قرمونہ میں عبدالرحمن اور اس کے ہمراہیوں کے ہاتھ سے مقتول ہوئے تھے‘ یمنی لوگوں کو اپنے ۱؎قرآن و سنت اور خلفائے راشدین کی سیرت سے ایسا کوئی اشارہ بھی نہیں ملتا کہ باغیوں یا دیگر مجرموں کو سزا دیتے ہوئے دیگر سزائوں کے ساتھ ان کی داڑھی بھی مونڈ دی جائے۔ اس لیے اگر یہ واقعہ درست ہے تو امیر عبدالرحمن باغیوں کی داڑھیوں کو مونڈ دینے کا فعل غلط ہے۔ ان مقتولین کا قصاص لینے کی خواہش تھی‘ چنانچہ اسی سال یعنی ۱۴۷ھ میں سعید یحصبی نے جو مطری کے نام سے مشہور تھا خروج کیا اور شہر لبلہ میں فوجیں فراہم کر کے اشبیلیہ پر قابض و متصرف ہو گیا‘ امیر عبدالرحمن یہ خبر پا کر قرطبہ سے فوج لے کر مطری کی سرکوبی کے لیے اشبیلیہ کی جانب روانہ ہوا‘ مطری نے اشبیلیہ کے ایک قلعہ میں قلعہ بند ہو کر مدافعت شروع کی اور عبدالرحمن نے اشبیلیہ کا محاصرہ کر لیا‘ عتاب بن علقمی شہر شدونہ میں تھا وہ مطری کے ساتھ اس بغاوت میں شرکت کا وعدہ کر چکا تھا‘ چنانچہ مطری کے محصور ہونے کی خبر سن کر عتاب بن علقمی شدونہ سے فوج لے کر روانہ ہوا۔ امیر عبدالرحمن نے یہ خبر سن کر اپنے خادم بدر کو ایک حصہ فوج دے کر روانہ کیا کہ عتاب کو مطری تک نہ پہنچنے دیا جائے اور دونوں کے درمیان خود حائل رہے۔ ادھر سعید معروف بہ مطری مارا گیا۔ اہل قلعہ نے ایک شخص خلیفہ بن مروان کو اپنا سردار بنا لیا‘ مگر آخر مجبور ہو کر امن کی درخواست دی‘ عبدالرحمن نے اس درخواست کو منظور کر کے قلعہ مسمار کرا دیا‘ اور خود قرطبہ کی جانب واپس آیا اس کے بعد ہی علاقہ جیان میں عبداللہ بن خراشہ اسدی نے علم بغاوت بلند کیا اور عبدالرحمن کے مقابلہ کو فوج جمع کی‘ امیر عبدالرحمن نے فوراً ایک فوج اس طرف روانہ کی‘ عبداللہ کے ہمراہیوں نے یہ سن کر کہ عبدالرحمن کی فوج آ رہی ہے‘ عبداللہ کا ساتھ چھوڑ دیا۔ عبداللہ اسدی نے امیر عبدالرحمن سے معافی کی درخواست کی‘ امیر نے اس کو معافی دے دی۔ ۱۵۰ھ میں غیاث بن میر اسدی نے علم بغاوت بلند کیا‘ ولایت باجہ کے عامل نے فوجیں فراہم کر کے اس کا مقابلہ کیا‘ معرکۂ کارزار میں غیاث مارا گیا‘ اس کی فوج شکست کھا کر منتشر ہو گئی عامل باجہ نے غیاث کا سر کاٹ کر بشارت نامہ کے ساتھ امیر عبدالرحمن کی خدمت میں بھیج دیا اسی سال یعنی ۱۵۰ھ میں امیر عبدالرحمن نے شہر قرطبہ کی شہر پناہ کا سنگ بنیاد رکھا‘ ۱۵۱ھ میں ایک شخص شقنہ بن عبدالواحد نے جو بربر کے قبیلہ مکناسہ سے تعلق رکھتا تھا اور تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے معلمی کا پیشہ کرتا تھا یہ دعویٰ کیا کہ میں سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی اولاد سے ہوں اور میرا نام عبداللہ بن محمد ہے‘ اس شخص کو عباسیوں کی سازشی کار روائیوں کا علم تھا‘ نیز علویوں کے دعاۃ مکناسہ اور علاقہ بربر میں آتے رہتے تھے‘ جن کا اس کو علم تھا‘ لہٰذا اس نے اندلس کی حکومت کو درہم برہم کرنے کی جرأت و جسارت کی اس کی یہ اولوا لعزمی کچھ زیادہ عجیب بھی نہ تھی‘ کیوں کہ بہت جلد بربریوں کی ضعیف الاعتقاد قوم اس کے گرد جمع ہو گئی‘ بربریوں کے علاوہ بعض لوگ اور بھی اس کے معتقد ہو گئے‘ ابن عبدالواحد نے اپنی کرامت اور خرق عادت باتوں کا بھی ان لوگوں کو یقین دلایا ایک مجمع کثیر جب اس کے معتقدین کا فراہم ہو گیا تو اس نے علم بغاوت بلند کیا اور اندلس کے مشرقی صوبہ بلنسیہ کے مقام شیطران پر قابض و متصرف ہو گیا‘ امیر عبدالرحمن یہ خبر سن کر اس کی سر کوبی کے لیے قرطبہ سے روانہ ہوا۔ ابن عبدالواحد امیر عبدالرحمن کی آمد کا حال سن کر اپنی جماعت کے ساتھ پہاڑوں میں جا چھپا اور مقابلہ نہیں کیا‘ امیر عبدالرحمن قرطبہ کی جانب واپس لوٹ آیا‘ طیطلہ کی حکومت پر حبیب بن عبدالملک کو مامور کر کے ابن عبدالواحد کی سر کوبی کی ہدایت کی‘ حبیب بن عبدالملک نے اپنی طرف سے سلیمان بن عثمان بن مروان بن عثمان بن ابان بن عثمان{ بن عفان کو ابن عبدالواحد کی گرفتاری و سزا دہی پر مامور کیا‘ سلیمان فوج لے کر ابن عبدالواحد کے تعاقب میں روانہ ہوا ابن عبدالواحد نے مقابلہ کیا اور سلیمان کو گرفتار کر کے قتل کر ڈالا۔ اور اطراف قوریہ پر قابض و متصرف ہو گیا۔ یہ حالت سن کر ۱۵۲ھ میں امیر عبدالرحمن نے قرطبہ سے پھر کوچ کیا‘ ابن عبدالواحد امیر کی خبر سن کر فوراً پہاڑوں میں بھاگ گیا اور امیر عبدالرحمن پریشان ہو کر پھر واپس چلا آیا۔ ۱۵۳ھ میں امیر عبدالرحمن نے اپنے خادم بدر کو ایک فوج دے کر روانہ کیا‘ بدر جب قلعہ شیطران کے قریب پہنچا تو ابن عبدالواحد شیطران کو خالی چھوڑ کر پہاڑوں میں چلا گیا ۱۵۴ھ میں پھر امیر عبدالرحمن خود گیا مگر حسب سابق شقنہ بن عبدالواحد ہاتھ نہ آیا۔ ۱۵۵ھ میں امیر عبدالرحمن نے ابوعثمان عبیداللہ بن عثمان کو ایک زبردست فوج دے کر روانہ کیا‘ لیکن اس مرتبہ بھی کوئی نتیجہ حسب مراد پیدا نہ ہوا بلکہ ابن عبدالواحد نے ابوعثمان کی فوج کے ایک بڑے حصے کو دھوکہ دے کر قتل کر ڈالا‘ اور کئی شہروں کو لوٹ لیا‘ مجبور ہو کر امیر عبدالرحمن ۱۵۶ھ میں پھر قرطبہ سے خود ہی فوج لے کر روانہ ہوا اور قرطبہ میں اپنے بیٹے سلیمان کو بجائے اپنے حاکم بنا گیا‘ جب قلعہ شیطران کے قریب پہنچا تو خبر پہنچی کہ یمنی قبائل اور اہل اشبیلیہ نے علم بغاوت بلند کر دیا‘ مجبوراً امیر عبدالرحمن شیطران اور ابن عبدالواحد کو ان کے حال پر چھوڑ کر اشبیلیہ کی طرف متوجہ ہوا اور عبدالملک بن عمرو کو حکم دیا کہ وہ آگے بڑھ کر اشبیلیہ پر حملہ کرے۔ عبدالملک نے اشبیلیہ کے قریب پہنچ کر اپنے بیٹے امیہ بن عبدالملک کو اہل اشبیلیہ پر شب خون مارنے کے لیے بطور ہر اول آگے روانہ کیا‘ امیہ نے اہل اشبیلیہ کو ہوشیار پا کر حملہ نہ کیا‘ اور باپ کے پاس واپس لوٹ آیا‘ عبدالملک نے واپسی کی وجہ پوچھی تو امیہ نے کہا کہ اہل اشبیلیہ ہوشیار تھے اور حملہ کرنے کا موقعہ نہ تھا‘ عبدالملک نے کہا تونے موت سے ڈر کر حملہ نہیں کیا تو بڑا بزدل ہے میں بزدل کو محبوب نہیں رکھتا اور یہ کہہ کر اس نے اسی وقت اپنے بیٹے امیہ کی گردن اڑا دی‘ اور اپنے ہمراہیوں کو مخاطب کر کے کہا کہ تم جانتے ہو کہ ہم لوگ کس طرح قتل کیے گئے اور اپنے وطن سے بے وطن ہوئے‘ اتفاق سے اس قدر دور دراز فاصلہ پر زمین کا یہ ٹکڑا یعنی ملک اندلس ہمارے ہاتھ آ گیا ہے جو بمشکل ہماری گذر ان کے لیے کافی ہے۔ بزدلی کے ساتھ اس کو بھی ہاتھ سے دینا اور ضائع کرنا کسی طرح شایاں نہیں ہے۔ مناسب یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کو موت پر ترجیح نہ دیں اور بہادری کے ساتھ لڑ کر مارے جائیں۔ سب نے اس کی تائید کی اور مارنے مرنے کی قسمیں کھائیں۔ اشبیلیہ میں یمنی قبائل کی نہایت زبردست جمعیت اور پوری طاقت فراہم تھی اور یہ ان کی طاقت و قوت کی آخری نمائش تھی‘ لہٰذا اشبیلیہ کو فتح کرنا کوئی آسان کام نہ تھا عبدالملک بن عمر نے حملہ کیا اور اس کی فوج نے اس حملہ میں متفقہ طور پر اس کا ساتھ دیا‘ بڑی خوں ریز جنگ ہوئی‘ آخر اہل اشبیلیہ کو ہزیمت ہوئی‘ عبدالملک کے جسم پر کئی زخم آئے‘ مگر اس نے دشمنوں کے قتل کرنے میں حیرت انگیز طور پر تیز دستی اور بہادری دکھائی‘ لڑائی کے خاتمہ پر جب عبدالملک نے ہاتھ سے تلوار رکھنی چاہی تو اس کی انگلیاں نہیں کھل سکیں اور تلوار ہاتھ سے نہیں چھوٹی‘ اسی حالت میں امیر عبدالرحمن بھی پہنچ گیا‘ اس نے عبدالملک کے ہاتھ میں خون آلود تلوار دیکھ کر اور لڑائی کی روئداد سن کر کہا کہ بھائی عبدالملک میں اپنے لڑکے ہشام کی شادی آپ کی لڑکی سے کرنا چاہتا ہوں‘ اس کے بعد امیر عبدالرحمن نے عبدالملک بن عمر کو اپنا وزیز بنا لیا۔ یمنی قبائل یعنی اہل اشبیلیہ کے دو سردار عبدالغفار بن حامد حاکم شہر نبیلہ اور حیوۃ بن قلاقش حاکم اشبیلیہ اور عمر و حاکم بیجہ اس معرکہ سے بچ کر فرار ہو گئے تھے‘ انہوں نے پھر اپنے گرد عربی قبائل کو جمع کیا‘ ۱۵۷ھ میں امیر عبدالرحمن نے ان پر حملہ کیا اور شکست دے کر ان کو اور ان کے ہوا خواہوں کو قتل کر ڈالا‘ ان واقعات سے امیر عبدالرحمن کو عرب قبائل کی طرف سے بڑی بدگمانی اور بے اعتباری ہو گئی‘ چنانچہ اس نے عجمیوں اور غلاموں کو بھرتی کرنا شروع کیا تاکہ ان لوگوں یعنی عرب قبائل کی بغاوتوں اور سرکشیوں سے امن مل سکے‘ یہی مجبوریاں غالباً خلفائے عباسیہ کو بھی پیش آئی ہوں گی جن کی وجہ سے انہوں نے باوجود اس کے کہ وہ عرب تھے‘ عربوں پر دوسری قوموں کو ترجیح دی اور عربوں کی غداری سے ہمیشہ ڈرتے ہی رہے۔ ۱۶۰ھ میں عبدالرحمن نے ایک لشکر ابن عبدالواحد کی طرف روانہ کیا‘ اس لشکر نے جا کر قلعہ شیطران کا محاصرہ کر لیا اور ایک مہینے تک محاصرہ کیے رہنے کے بعد بے نیل و مرام واپس آیا‘ آخر ۱۶۲ھ میں ابن عبدالواحد قلعہ شیطران سے نکل کر علاقہ شتت بریہ کے ایک گائوں آیا اس کے ہمراہیوں میں سے دو شخص ابو معین اور ابو حریم نے اس کو قتل کر ڈالا اور اس کا سر لے کر امیر عبدالرحمن کی خدمت میں حاضر ہو گئے‘ اس طرح اس فتنہ کا عرصہ دراز کے بعد خاتمہ ہوا۔ ابھی ابن عبدالواحد قتل نہ ہوا تھا کہ ۱۶۱ء میں عبدالرحمن بن حبیب فہری معروف بہ صقلبی نے افریقہ میں فوجیں آراستہ کر کے اندلس پر قبضہ کرنے کے ارادے سے چڑھائی کی اور تدمیر کے میدان میں پہنچ کر قیام کیا‘ یہاں اندلس کے بہت سے بربری آ آ کر اس کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو گئے‘ عبدالرحمن بن حبیب نے سلیمان بن یقظان والی برشلونہ کے پاس پیغام بھیجا کہ تم خلافت عباسیہ کی اطاعت قبول کر لو‘ ورنہ مجھ کو اپنے سر پر پہنچا ہوا سمجھو سلیمان نے انکار کیا اور عبدالرحمن بن حبیب نے سلیمان پر حملہ کیا‘ مقابلہ ہوا اور سلیمان نے عبدالرحمن بن حبیب فہری کو شکست دے کر بھگا دیا‘ عبدالرحمن بن حبیب نے میدان تدمیر میں آ کر دم لیا‘ امیر عبدالرحمن بن معاویہ کو جب یہ حال معلوم ہوا تو وہ قرطبہ سے فوج لے کر میدان تدمیر کی طرف روانہ ہوا‘ عبدالرحمن بن حبیب امیر عبدالرحمن کے آنے کی خبر سن کر کوہ نبسیہ میں جا کر پناہ گزین ہوا۔ امیر عبدالرحمن بن معاویہ نے اشتہار دیا کہ جو شخص عبدالرحمن بن حبیب کا سر کاٹ کر لائے گا اس کو اس قدر انعام دیا جائے گا اس انعام کے مشتہر ہوتے ہی ایک بربری کی جو عبدالرحمن بن حبیب کے ہمراہیوں میں تھا نیت بگڑی اس نے موقعہ پا کر عبدالرحمن بن حبیب کا سر کاٹ لیا اور امیر عبدالرحمن کی خدمت میں لا کر پیش کیا پھر انعام وصول کر کے چل دیا اسی طرح ۱۶۲ھ میں عبدالرحمن بن حبیب کے مارے جانے پر اس مہم کا خاتمہ ہو گیا اور امیر عبدالرحمن اطمینان سے اپنے دار السلطنت قرطبہ کی طرف واپس آیا۔ چند ہی روز کے بعد ۱۶۲ھ میں وحیہ غسانی نے علاقہ البیرہ کے قلعہ میں جا گزین ہو کر علم بغاوت بلند کیا‘ امیر عبدالرحمن نے شہید بن عیسی کو اس کی سر کوبی پر مامور کیا‘ شہید بن عیسی نے اس باغی سردار کو شکست دے کر قتل کر ڈالا‘ اس کے چند روز کے بعد بربریوں نے سر اٹھایا اور ابراہیم بن شجرہ کی سر کردگی میں علم بغاوت بلند کیا‘ امیر عبدالرحمن نے ابراہیم بن شجرہ کی سر کوبی پر بدر کو مامور کیا‘ بدر نے ابراہیم کو قتل کر کے بربریوں کی جمعیت کو منتشر کر دیا انہی دنوں سلمیٰ نامی ایک سپہ سالار نے قرطبہ سے فرار ہو کر طیطلہ کا رخ کیا اور طیطلہ پر قبضہ کر کے علم بغاوت بلند کیا‘ امیر عبدالرحمن نے حبیب بن عبدالملک کو سلمیٰ کی سرکوبی پر مامور فرمایا‘ حبیب لے جا کر طیطلہ کا محاصرہ کر لیا اور عرصہ دراز تک یہ محاصرہ جاری رہا‘ آخر سلمیٰ کا بحالت محاصرہ انتقال ہو گیا اور اس کے ہمراہی منتشر ہو گئے۔