خلفائے اندلس
عبدالرحمن کے عہدہ دار
عبدالرحمن بن امیہ چونکہ نوعمر اور اس ملک میں ایک اجنبی شخص تھا‘ لہٰذا یہاں کے امراء‘ یہاں کے عمال‘ یہاں کی رعایا یہاں کے قبائل اور ان کی خصوصیات سے اس کو پوری واقفیت اور آگاہی نہ تھی عبدالرحمن کی حکومت کے شروع ہوتے یہ حکومت دسرداری کے عہدوں پر جو لوگ مقرر و مامور ہوئے‘ ان میں بعض ایسے بھی تھے جو اہل اندلس کی ناراضی کا باعث ہوئے‘ بعض ایسے اشخاص تھے جن کو توقع تھی کہ ہم کو بڑے بڑے عہدے ملیں گے لیکن ان کو ان کی توقع کے موافق وہ عہدے نہیں ملے‘ اس طرح ایک بڑی تعداد ملک میں ایسی پیدا ہو گئی جو عبدالرحمن کی حکومت سے بھی کبیدہ خاطر اور ملول ہوئی‘ علاوہ ازیں یوسف فہری سابق امیر اندلس اور ضمیل بن حاتم کے دوست احباب اور متعلقین تو ناخوش تھے ہی۔