امیران اندلس
الفانسو
پلیو کے انتقال پر اس کے بیٹے کو اپنا بادشاہ بنایا اور دو تین سال کے بعد وہ بھی فوت ہو گیا تو پلیو کے داماد الفانسو نامی کو عیسائیوں نے اپنا افسر اور بادشاہ قرار دیا‘ ادھر مسلمانوں کی خانہ جنگی اور آپس کے کشت و خون نے مسلمانوں کو شمالی صوبوں اور جبل البرتات کے متصلہ علاقوں کی طرف مطلق توجہ نہ کرنے دی‘ اس فرصت میں الفانسو نے جلیقیہ‘ اراگون‘ اربونیہ کے علاقوں سے عیسائیوں کو اس پہاڑی علاقہ میں آنے اور آباد ہونے کی دعوت دی‘ جب عیسائیوں نے اپنے سر سبز کھیتوں اور میدانی علاقوں کو چھوڑنا اور زاہدانہ زندگی بسر کرنا پسند نہ کیا تو الفانسو نے ارد گرد کے علاقوں پر چھاپے مارنے شروع کئے‘ ان ڈاکہ زنیوں میں وہ صرف لوٹ مار ہی پر اکتفا نہ کرتا تھا بلکہ عیسائی آبادیوں پر چھاپہ مار کر عیسائیوں کو پکڑ پکڑ کر لے جاتا اور اپنے پہاڑی علاقہ میں سکونت پذیر کرتا تھا‘ ان عیسائیوں کی نظر بندوں کی طرح نگرانی بھی ہوتی تھی اور وہ کسی طرح اس پہاڑ سے نکل کر بھاگ نہیں سکتے تھے۔