امیران اندلس
ابوالخطاب حسام بن ضرار کلبی
ابوالخطاب ہر طرح حکومت کی قابلیت رکھتا تھا‘ ادھر اندلس کی تمام رعایا خواہ مسلمان ہوں یا عیسائی روز روز کی خانہ جنگی سے تنگ آ گئی تھی‘ سب نے اس نئے امیر کا بڑی دھوم دھام سے قرطبہ کے باہر استقبال کیا‘ اور اطاعت پر مستعد ہو گئے‘ پسران عبدالملک نے بھی حاضر ہو کر بیعت اطاعت کی۔
حسام نے نہایت عدل و داد اور محبت و سخاوت کے ساتھ اپنی حکومت کو شروع کیا اس امیر نے اسباب خانہ جنگی کو نہایت غور و فکر کے ساتھ تحقیق و متعین کیا‘ اور پھر ہر ایک قوم اور ہر ایک قبیلے کے لیے اندلس میں جدا جدا مقام سکونت کے لیے تجویز کیا‘ اور اس طرح تمام اہل شام کو جو قرطبہ میں بہ تعداد کثیر جمع ہو کر موجب مشکلات ہو سکتے تھے منتشر کر دیا گیا اور دارالحکومت میں امیر کے لیے انتظام میں آسانیاں پیدا ہو گئیں۔