امیران اندلس
کلثوم بن عیاض کی قلعہ سبطہ میں محصوری
کلثوم بن عیاض اپنی بہت سی فوج کو کٹوا کر دس ہزار شامیوں کے ساتھ قلعہ سبطہ میں محصور ہو گیا‘ یہ قلعہ جیسے کہ پہلے ذکر آ چکا ہے آبنائے جبل الطارق کے جنوبی ساحل پر واقع ہے‘ اہل اندلس اگر چاہتے تو کلثوم بن عیاض کو امداد پہنچا سکتے تھے‘ اس قلعہ کا فتح کرنا بربریوں کی طاقت سے باہر تھا‘ لیکن چوں کہ قلعہ میں سامان رسد نہ تھا‘ اس لیے محصورین کو فاقہ کی مصیبت کا مقابلہ کرنا پڑا اور سب سے بڑی امداد ان کی یہی تھی کہ کھانے پینے کا سامان ان کو پہنچایا جاتا۔
کلثوم بن عیاض نے عبدالملک بن قطن حاکم اندلس سے سامان رسد کی امداد طلب کی اپنی حالت زار سے مطلع کیا‘ عبدالملک نے بوجہ اس نفرت کے جو اس کو شامیوں سے تھی کلثوم اور اس کے ہمراہیوں کو کسی قسم کی امداد نہ پہنچائی‘ اندلس کے ایک امیر سوداگر زید بن عمرو کو جب سبطہ کی محصور فوج کا یہ حال معلوم ہوا تو اس نے کئی جہازوں میں سامان رسد بار کرا کر قلعہ سبطہ کی طرف روانہ کیا‘ اس کا حال جب عبدالملک کو معلوم ہوا تو اس نے زید بن عمرو کو گرفتار کرا کر نہایت ذلت کے ساتھ قتل کرا دیا۔