امیران اندلس
امیر عتبہ کی وفات
امیر عتبہ افریقہ کے کاموں سے فارغ ہو کر ۱۲۲ھ میں اندلس واپس آیا تو یہاں اس کے خلاف بغاوت کا ارادہ پختہ ہو چکا تھا‘ عبدالملک بن قطن کی نسبت اوپر تحریر ہو چکا ہے کہ اس کو عتبہ نے کسی
۱؎اب بھی یہ فرانس کا ایک بڑا اور مشہور شہر ہے۔
علاقے کا عامل بنا دیا تھا‘ عتبہ کی غیر موجودگی میں عبدالملک نے رعایائے اندلس کے ایک بڑے حصے کو اپنے ساتھ بغاوت میں شامل کر لیا اور خود حکومت اندلس کا مدعی ہوا‘ امیر عتبہ نے آ کر اس بغاوت و سرکشی کے مٹانے کی تدابیر شروع کیں‘ مگر اس کو موت نے زیادہ مہلت نہ دی‘ ماہ صفر ۱۲۳ھ میں امیر عتبہ نے دارالسلطنت قرطبہ میں انتقال کیا اور عبدالملک بن قطن بڑی آسانی سے تمام ملک اندلس پر قابض و متصرف ہو گیا۔