امیران اندلس
ہیثم بن عبید
ہیثم بن عبید کلابی شامی الاصل تھا اور اس میں سخت گیری و تشدد کا مادہ زیادہ تھا‘ ہیثم کا طرز عمل اہل اندلس کو ناگوار گزرا‘ اندلس کے مسلمان اور عیسائی دونوں ہیثم سے ناخوش ہو گئے‘ نتیجہ یہ ہوا کہ پرانے تجربہ کے موافق اندلس سے ایک وفد شکایت لے کر افریقہ پہنچا‘ گورنر افریقہ نے اس وفد کی شکایت پر کوئی توجہ نہیں کی اور امیر اندلس کو معزول نہ کیا‘ ممکن ہے کہ گورنر افریقہ نے ہیثم کو اس لیے معزول کرنے کی جرأت نہ کی ہو کہ اس کو خود امیرالمومنین نے دمشق سے مقرر فرما کر بھیجا تھا‘ بہرحال افریقہ یعنی قیروان میں یہ وفد ناکام رہا تو وہاں سے شام کی طرف روانہ ہو کر دمشق پہنچا اور خلیفہ ہشام بن عبدالملک کے دربار میں حاضر ہو کر تظلم کناں ہوا‘ خلیفہ ہشام بن عبدالملک نے محمد بن عبداللہ اشجعی کو اندلس کی طرف روانہ کیا اور یہ حکم دیا کہ اندلس جا کر ہیثم کے افعال و اعمال کی تحقیق و تفتیش کرو اور اول اپنے آپ کو بھیس بدل کر چھپائے رہو اور تحقیق حالات میں کسی قسم کی کوتاہی روانہ رکھو‘ اگر عند التحقیق یہ ثابت ہو جائے کہ واقعی ہیثم خطاکار ہے اور اس کے طرز عمل سے خلافت اسلامیہ اور ملت مسلمہ کو نقصان پہنچ رہا ہے تو فوراً معزول کر دو اور خود حکومت اندلس کا چارج لے لو ورنہ ہیثم کو بدستور حکومت اندلس پر قائم چھوڑ کر واپس چلے آئو۔