محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم

طلوع شمس

اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی عمر چالیس سال کی ہو چکی تھی آفتاب ہدایت و رسالت طلوع ہوتا ہے‘ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ جب وہ روحانی قوتیں جو اللہ تعالیٰ تعالے نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی فطرت میں ودیعت کی تھیں عبادت و ریاضت اور اس خلوت سے نشوونما پا کر تحمل وحی اور برداشت منصب نبوت کے قابل ہو گئیں تو ایک روز غار حرا میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے فرشتہ نمودار ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے مخاطب ہو کر کہا:۔ ’’اقراء‘‘ (پڑھ) آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہا ماانابقاری(میں تو پڑھنا نہیں جانتا) پھر اس نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو پکڑ کر زور سے بھینچا پھر چھوڑ دیا اور کہا ’’اقراء‘‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے پھر جواب دیا ‘ کہ ماانابقاریاس نے پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو پکڑ کرزور سے بھینچا پھر چھوڑ دیا اور کہا اقراء آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے پھر وہی جواب دیا ’’ما انا بقاری‘‘ فرشتہ نے پھر تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو زور سے بھینچا اور پھر چھوڑ کر کہا:۔ {اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ ٭ خَلَقَ الْاِِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ ٭ اقْرَاْ وَرَبُّکَ الْاَکْرَمُ ٭ الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ٭ عَلَّمَ الْاِِنسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ} ’’پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے ہر شے کو پیدا کیا‘ اور انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا‘ پڑھ اور تیرا رب بڑا بزرگ ہے‘ جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا‘ انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ جانتا نہ تھا۔‘‘ (العلق : ۹۶ ۱ تا۵) یہ کہہ کر فرشتہ تو غائب ہو گیا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم وہاں سے خوف زدہ حالت میں گھر تشریف لائے اور خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ زملونیزملونی(مجھے کمل اوڑھائو) سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو کمل اوڑھا دیا اور وہ بھی گھبرائیں کہ یہ کیا بات ہے‘ جب تھوڑی دیر کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو کچھ سکون ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے تمام کیفیت سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہ کو سنائی اور کہا کہ ’’لقد خشیت علی نفسی‘‘ (مجھے تو اپنی جان کا خوف ہو گیا ہے۔) ۱؎