اندلس میں اسلامی حکومت

طیطلہ کی فتح

طیطلہ کو طارق نے بڑی آسانی سے ربیع الثانی ۹۳ھ میں فتح کر لیا طیطلہ کے شاہی خزانہ میں شاہان گاتھ کے پچیس عدد تاج طارق کو ملے‘ ہر ایک تاج پر بادشاہ کا نام اور مدت سلطنت لکھی ہوئی تھی‘ یعنی اس وقت تک پچیس بادشاہ یکے بعد دیگرے گاتھ خاندان کے حکومت کر چکے تھے۔ ہر ایک بادشاہ کے لئے نیا تاج بنایا جاتا تھا اور فوت شدہ بادشاہ کا تاج خزانہ میں رکھ دیا جاتا تھا‘ طیطلہ میں بھی طارق نے قیام نہیں کیا‘ بلکہ وہ اندلس کے انتہائی شمالی صوبہ تک شہروں کو فتح کرتا ہوا چلا گیا‘ ادھر مغیث الرومی نے چند روزہ محاصرہ کے بعد قرطبہ اور اس کے نواح کو فتح کر لیا اس طرح طارق نے جنوب سے لے کر شمال تک جزیرہ نما اندلس کا درمیانی حصہ فتح کر لیا‘ مشرق اور مغرب کی جانب کے صوبے باقی رہ گئے تھے۔