مسلمانوں سے پہلے اندلس کی حالت

لرزیق کی تخت نشینی

ساتویں صدی عیسوی کے آخری عشرہ میں اپنی شان و شوکت اور وسعت مملکت کے اعتبار سے گاتھ سلطنت اپنے معراج کمال کو پہنچ چکی تھی‘ تمام بحر روم پر ان کی سیادت مسلم تھی‘ جزیرہ نمائے ہسپانیہ کے علاوہ بحر روم کے اکثر جزائر بھی انہی کے زیر اقتدار اور زیر حکومت تھے‘ افریقہ کے شمالی ساحل پر بھی بعض مقامات پر ان کا قبضہ قائم تھا۔ بحر روم کے مشرقی حصے پر بازنطین یعنی رومی حکومت بڑے شان و شوکت کے ساتھ قائم تھی‘ جس زمانہ میں مسلمانوں نے رومیوں کو ملک شام و فلسطین و مصر سے خارج کر دیا تھا‘ اس زمانے میں گاتھ قوم کا بادشاہ وٹیزا طیطلہ میں برسر حکومت تھا۔ وٹیزا نے جب یہ دیکھا کہ پادریوں نے تمام سلطنت پر اپنا اثر و اقتدار قائم کر کے اللہ کی مخلوق کو ستانے میں بڑی قساوت قلبی کا اظہار کیا ہے اور یہودیوں کے ساتھ ان کا ظالمانہ برتائو انسانیت کے خلاف ہے تو اس نے عیسائیوں یعنی پادریوں کے اقتدار کو توڑنے اور کم کرنے کی کوششیں شروع کیں‘ پادریوں نے اس بات سے واقف ہو کر وٹیزا کے معزول کرنے کی تجویز کی اور اس پر یہ الزام لگایا کہ وہ یہودیوں کا خیرخواہ ہے‘ یہودیوں کی خیرخواہی ایسا ناقابل عفو جرم تھا کہ پادریوں کو وٹیزا کے معزول کرنے میں زیادہ دقت پیش نہ آئی‘ انہوں نے وٹیزا کو معزول کر کے ایک فوجی سردار لرزیق نامی کو جو شاہی خاندان سے نہ تھا تخت نشین کیا‘ اس طرح گاتھوں کی سلطنت کا خاتمہ ہو کر لرزیق کی حکومت آٹھویں صدی عیسوی کے شروع میں شروع ہوئی‘ لرزیق ایک کار آزمودہ سپہ سالار اور ستر اسی سال کی عمر کا تجربہ کار شخص تھا‘ چونکہ پادریوں کی حمایت بھی اس کے شامل حال تھی‘ لہٰذا قدیم شاہی خاندان کے محروم کرنے اور لرزیق کی حکومت کے قائم ہونے میں کوئی دقت اور پریشانی بھی رونما نہ ہوئی۔ لرزیق نے تخت نشین ہو کر اطمینان اور پوری طاقت کے ساتھ حکومت شروع کی اور پادریوں کے اقتدار میں کسی قسم کا فرق نہ آنے پایا۔