دوسری فصل
دولت صفویہ
۸۰۴ھ میں جب بمقام انگورہ تیمور کو فتح حاصل ہوئی تو بہت سے ترک تیموری لشکر نے گرفتار کر لیے‘ بعد فتح ان قیدیوں کو لیے ہوئے تیمور شیخ صفی الدین اردبیلی کی خدمت میں حاضر ہوا‘ شیخ صفی الدین اپنے آپ کو امام موسیٰ کاظم کی اولاد میں سے بتاتے تھے‘ مگر سنی مذہب رکھتے تھے‘ تیمور نے جب شیخ سے کسی خدمت کے لیے اپنی آمادگی ظاہر کی تو شیخ نے کہا ان ترک قیدیوں کو آزاد کر دے‘ تیمور نے اسی وقت ترک قیدیوں کو آزاد کر دیا‘ قیدیوں نے آزاد ہو کر شیخ کے ہاتھ پر بیعت کی اور شیخ کی خدمت میں رہنے لگے۔
تیمور تو اردبیل سے چلا گیا لیکن شیخ کے گرد سر فروش خدام کا ایک مجمع کثیر فراہم ہو گیا اور نسلا بعد نسل شیخ کی اولاد کے ساتھ ان ترک مریدوں کی اولاد نے وفاداری کا اظہار کیا حتی کہ شیخ کی اولاد میں اسمٰعیل صفوی کو بادشاہ بنا کر چھوڑا‘ اسماعیل صفوی شیعہ عقیدہ رکھتا تھا‘ ۹۰۳ھ میں وہ ایران کے بعض شہروں پر قابض و متصرف ہوا اور پھر رفتہ رفتہ تمام ملک ایران پر قابض ہو گیا‘ ۹۶۰ھ میں سلطان سلیم عثمانی نے اس کو مقام خالدران پر جو تبریز سے بیس فرسنگ کے فاصلہ پر ہے‘ شکست فاش دی اور صفوی سلطنت کے بعض مغربی صوبوں کو اپنی حکومت میں شامل کر کے شام و مصر کی طرف متوجہ ہو گیا‘ اسمعیل صفوی اس شکست کے بعد دس سال تک زندہ رہا‘ اس کے بعد اس کی اولاد میں ایران کی حکومت و سلطنت جاری رہی‘ یہاں تک کہ ۱۱۴۸ھ میں نادر شاہ ایرانی نے اس خاندان کا خاتمہ کر کے اپنی حکومت قائم کی۔
اس کے بعد ایران‘ اور افغانستان پر پٹھانوں کی حکومت قائم ہوئی‘ پھر ایران میں سلطنت قاچار شروع ہوئی‘ اور افغانستان اب تک پٹھانوں کے قبضہ میں ہے۔