محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم

قبائل قریش میں آپ کا حکم مقرر ہونا

خانہ کعبہ میں کسی بداحتیاطی کے سبب آگ لگ گئی تھی جس کے صدمہ سے دیواریں بھی جا بجا شق ہو گئی تھیں‘ قریش نے ارادہ کیا کہ اس عمارت کو منہدم کر کے پھر ازسر نو تعمیر کیا جائے‘ اس رائے پر تو سب کا اتفاق ہو گیا لیکن کھڑی ہوئی عمارت کو منہدہم کرنے پر کوئی آمادہ نہ ہوتا تھا‘ اور سب ڈرتے تھے‘ آخر سرداران قریش میں سے ولید بن مغیرہ نے اس کام کو شروع کر دیا‘ پھر رفتہ رفتہ تمام قبائل اس انہدام کے کام میں شریک ہو گئے۔ اسی زمانہ میں بندرگاہ جدہ کے قریب ایک جہاز ٹوٹ کر ناکارہ ہو گیا تھا‘ اس کا حال معلوم ہوا تو قریش نے اپنے معتمد آدمیوں کو بھیج کر اس جہاز کی لکڑی خرید لی اور کار آمد لکڑیاں اونٹوں پر لاد کر مکہ میں لے آئے‘ یہ لکڑی خانہ کعبہ کی چھت کے لیے خریدی گئی تھی‘ کعبہ کی دیواروں کو منہدم کرتے ہوئے جب تعمیر ابراہیمی کی بنیادوں تک پہنچے تو پھر تعمیر شروع کر دی۔ چونکہ چھت کے لیے پوری لکڑی نہ تھی اس لیے خانہ کعبہ کو ابراہیمی بنیادوں پر پورا تعمیر نہیں کیا بلکہ ایک طرف تھوڑی جگہ چھوڑ دی۔ اب تعمیر بلند ہوتے ہوتے اس مقام تک پہنچ گئی کہ حجراسود رکھا جائے‘ قبائل قریش میں ایک سخت فساد اور جنگ عظیم کا سماں پیدا ہو گیا یہ جھگڑا اس بات پر ہوا کہ ہر قبلہ کا سردار یہ چاہتا تھا‘ کہ حجر اسود کو میں اپنے ہاتھ سے رکھوں‘ قبائل میں ایک دوسرے کے خلاف ضد پیدا ہو گئی اور ہر طرف سے تلواریں کھنچ گئیں‘ بنو عبدالدار مرنے اور مارنے پر قسم کھا بیٹھے‘ اس جھگڑے میں پانچ روز تک تعمیر کا کام بند رہا۔ آخر قبائل قریش خانہ کعبہ میں جمع ہوئے اور ایک مجلس منعقد کی گئی اس مجلس میں ابوامیہ بن مغیرہ نے تجویز پیش کی کہ جو شخص خانہ کعبہ میں سب سے پہلے داخل ہوتا ہوا نظر آئے اسی کو حکم مقرر کیا جائے وہ جو فیصلہ کرے سب اس پر رضا مند ہو جائیں‘ لوگوں نے نگاہ اٹھا کر جو دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم داخل ہو رہے تھے سب نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھتے ہی ’’الامین الامین‘‘ پکارا اور کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے فیصلہ پر ہم رضا مند ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اس مجلس میں داخل ہوئے تو سب نے معاملہ کو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف رجوع کیا اور کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم جس کے حق میں چاہیں فیصلہ کر دیں ہم آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے فیصلہ پر رضا مند ہیں۔ یہ ذرا سوچنے اور غور کرنے کا موقع ہے کہ جس عزت اور شرف کو ہر قبیلہ حاصل کرنا چاہتا تھا اورخون سے بھرے ہوئے پیالے میں انگلیاں ڈال ڈال کر اس زمانہ کی رسم کے موافق مرنے مارنے پر شدید و غلیظ قسمیں کھا چکے تھے اس عزت و شرف کے معاملہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے سپرد کرنے میں سب مطمئن ہیں جو دلیل اس امر کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی دیانت اور منصف مزاجی پر سب ایمان لائے ہوئے تھے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے معاملہ سے آگاہ ہو کر اسی وقت ذرا سی دیر میں جھگڑے کو ختم کردیا اور تمام بڑھے بڑھے اور تجربہ کار سردارن قریش آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی ذہانت‘ قوت فیصلہ اور منصف مزاجی کو دیکھ کر حیران رہ گئے اور سب نے بالا تفاق ’’احسنت و مرحبا‘‘ کی صدائیں بلند کیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس طرح فیصلہ کیا کہ ایک چادر بچھائی‘ اس پر حجراسود اپنے ہاتھ سے رکھ دیا۔ پھر ہر ایک قبیلہ کے سردار سے کہا کہ چادر کے کنارے کو پکڑ لو‘ چنانچہ تمام سردار قریش نے مل کر اس چادر کے کنارے چاروں طرف سے پکڑ کر پتھر کو اٹھایا‘ جب پتھر اس مقام پر پہنچ گیا جہاں اس کو نصب کرنا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے چادر سے اٹھا کر وہاں نصب کر دیا‘ کسی کو کوئی شکایت باقی نہ رہی اور سب آپس میں رضا مند رہے۔ اس واقعہ میں عتبہ بن ربیعہ بن عبدشمس‘ اسود بن مطلب بن اسد بن عبدالغریٰ‘ ابوحذیفہ بن مغیرہ بن عمر بن مخزوم اور قیس بن عدی السہمی چار شخص بہت پیش پیش تھے اور کسی طرح دوسرے کے حق میں معاملہ کو چھوڑنا نہ چاہتے تھے۔ اس فیصلہ سے چاروں بہت خوش اور مسرور تھے‘ ۱؎اگر ملک عرب میں یہ جنگ چھڑ جاتی تو یقینا یہ تمام ان لڑائیوں سے زیادہ ہیبت ناک اور تباہ کن جنگ ثابت ہوتی جو اب تک زمانہ جاہلیت میں ہو چکی تھیں‘ جس زمانہ میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس حجراسود والے جھگڑے کا فیصلہ کیا ہے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی عمر ۳۵ سال کی تھی۔