دوسری فصل
دولت سلجوقیہ
سلجوقیوں کی حکومت ۴۳۰ھ سے ۷۰۰ھ تک کم و بیش ڈھائی سو سال قائم رہی‘ ابتدائی زمانہ ان کا بڑا شاندار تھا‘ آخر میں ان کے بہت سے ٹکڑے ہو گئے اور شروع ہی سے ان کے کئی طبقات قائم ہو چکے تھے‘ ان کا سب سے بڑا سلسلہ وہ تھا‘ جس میں الپ ارسلان اور ملک شاہ سلجوقی جیسے مشہور آفاق سلاطین ہوئے‘ ان کو سلاجقہ ایران کہتے ہیں‘ ان کا کسی قدر حال اوپر بھی بیان ہو چکا ہے اور آئندہ مفصل بیان کیا جائے گا ان شاء اللہ تعالیٰ‘ ان کے علاوہ سلاجقہ کرمان‘ سلاجفہ عراق‘ سلاجقہ شام‘ سالاجقہ روم وغیرہ بھی مشہور ہیں‘ ان سب خاندانوں کی تاریخ دلچسپی سے خالی نہیں‘ پھر ان سلجوقیوں کے غلاموں اور اتابکوں کی سلطنتیں قائم ہوئیں‘ وہ بھی بہت مشہور اور اسلامی تاریخ کی زینت کہی جا سکتی ہیں۔
سلجوقیوں کا ظہور ایسے وقت میں ہوا جب کہ دیلمیوں کی چیرہ دستی نے خلافت بغداد کو سلطنت بے عزت اور کمزور کر دیا تھا‘ سلطنت اسلامیہ کے لوگوں نے تکے بوٹی کر لیے تھے‘ اور جدا جدا خود مختار ریاستیں اور بڑی بڑی بادشاہتیں قائم ہو چکی تھیں جیسا کہ اسی فصل میں اوپر بیان ہوتا چلا آتا ہے‘ سلجوقیوں نے خلافت عباسیہ کے مٹے ہوئے اقتدار کو پھر چمکایا اور بہت سے چھوٹے چھوٹے خاندانوں کو حکومت و فرماں روائی کی کرسی سے جدا کر کے ایک عظیم الشان اور طاقتور سلطنت میں خلیفہ کی بزرگی اور وقار کو قائم کیا‘ مگر چونکہ سلجوقیوں کی طاقت تمام تر فوجی اور جنگی اجزاء سے مرکب تھی اور سپہ سالاران افواج ہی کو انہوں نے ملکی انتظام اور ملک داری کا کام سپرد کر دیا تھا‘ لہٰذا چند روز کے بعد اس طاقت کا شیرازہ بکھر گیا اور تمام سلجوقی سردار الگ الگ صوبوں اور ولاتیوں پر خود مختارانہ قابض ہو کر اسی گذشتہ طائف الملوکی کو پھر واپس لانے کا موجب ہوئے۔
سلجوقی لوگ نو مسلم تھے مگر ان میں خلوص کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا‘ وہ علوی سازشوں‘ سبائی ریشہ دوانیوں سے بالکل پاک تھے‘ انہوں نے دین اسلام کی خدمت کے موقعے خوب پائے‘ جہاں تک ان کے امکان میں تھا انہوں نے مذہبی علوم اور نیک لوگوں کی خوب خدمتیں کیں‘ وہ خلفائے عباسیہ کی تکریم محض اس لیے کرتے تھے کہ ان کو پرانی اسلامی روایات کے موافق مستحق تکریم جانتے تھے‘ لیکن وہ عباسیوں‘ امویوں‘ علویوں کی رقابتوں سے مطلق متاثر نہیں ہوئے‘ نہ ان کو کسی ایک فریق سے عداوت تھی‘ نہ دوسرے سے بے جا محبت‘ وہ سیدھے سادھے اور سچے پکے مسلمان تھے‘ انہوں نے عیسائیوں کے خوب مقابلے کیے اور ان کے دلوں پر مسلمانوں کی شمشیر خارا شگاف کی و ہشت دہیبت پھر قائم کر دی اور عیسائیوں کے بڑھتے ہوئے سیلاب کو ایسا دھکا دیا کہ وہ دور تک پیچھے ہٹ گیا‘ سلجوقیوں ہی کی حکومت کا نتیجہ تھا کہ خلفاء عباسیہ کی حکومت صوبہ عراق پر آخر تک قائم رہی۔
ان کے زوال کا سبب وہی چیز تھی جو ہر ایک قوم کے زوال کا سبب ہوا کرتی ہے‘ یعنی آپس کی نا اتفاقی اور ایک دوسرے سے دست و گربیان ہونا۔ سلجوقیوں کی طاقت جیسا کہ بیان ہوا ایک جنگی طاقت تھی‘ فوج جس پر اس طاقت کا دار و مدار تھا‘ اس کے افسر ترکی غلام ہوتے تھے‘ جو دشت قبچاق سے منگوا کر خریدے جاتے تھے‘ ان زرخرید غلاموں پر سلاطین سلجوقیہ کا سب سے زیادہ اعتماد تھا‘ ان کی وفاداری میں ان کو مطلق شبہ نہ تھا‘ اسی لیے فوجوں کی افسری ان غلاموں کو دی جاتی‘ اور انہیں کو صوبوں اور ولاتیوں کی حکومت سپرد ہوتی‘ یہ غلام شائستہ ہو کر جب سرداری کے مرتبے پر پہنچتے تو بڑے وفادار اور بہادر ثابت ہوتے تھے‘ سلاطین سلجوقیہ اپنے نو عمر اور کم سن شہزادوں کی اتالیقی پر انہیں مملوک سرداروں کو مامور کرتے اور انہیں غلاموں کی نگرانی و اتالیقی میں سلجوقی شہزادوں کی ادب آموزی ہوتی‘ اس لیے ان مملوکوں یعنی ترک غلاموں کو اتابک (اتالیق) کے نام سے پکارنے لگے‘ اتابک کے معنیٰ ترکی زبان میں ایسے سردار کے ہیں۔
جب سلاطین سلجوقیہ آپس میں لڑ لڑ کر کمزور ہو گئے تو ان مملوکوں یعنی اتابکوں نے موقعہ پا کر اپنی مستقل حکومتیں جابجا قائم کر لیں‘ طفتگین جو سلجوق تتش کا مملوک تھا‘ وہ تتش کے نو عمر بیٹے وفاق سلجوقی کا اتابک مقرر ہوا اور وفاق کے بعد تتش سلجوقی کی سلطنت کا مالک ہو گیا اور دمشق میں حکومت کرنے لگا۔
عماد الدین زنگی سلطان ملک شاہ سلجوقی کے مملوک کا بیٹا تھا‘ اس نے موصل اور حلب میں اتابکی سلطنت قائم کی۔
عراق کے سلجوقی سلطان مسعود کا ایک قبچاقی غلام تھا‘ اس نے آذربائیجان میں اتابکی سلطنت قائم کی۔
سلطان ملک شاہ سلجوقی کا ثانی کا انوشتگین نامی ایک مملوک تھا‘ اس کی اولاد میں شاہان خوارزم شاہیہ تھے۔
اسی طرح سلغر ایک تابک سردار تھا‘ جس نے فارس میں اتابکی سلطنت قائم کی۔
غرض چھٹی صدی ہجری میں تمام سلجوقی سلطنت پر سلجوقیوں کے افسران فوج قابض و متصرف ہو کر اپنی اپنی مستقل بادشاہتیں قائم کر چکے تھے۔