دوسری فصل

صوبہ سندھ

۲۶۵ھ میں صوبہ سندھ بھی خلافت عباسیہ سے بالکل بے تعلق اور آزاد ہو گیا‘ یہاں دو خود مختار ریاستیں مسلمانوں کی قائم ہو گئیں‘ جن میں ایک کا دارالحکومت ملتان اور دوسری کا دارالحکومت منصورہ تھا‘ سلطنت منصورہ میں ملک سندھ کا جنوبی حصہ شامل تھا اور ملتان کی حکومت شمالی حصہ پر قائم تھی‘ اس کے علاوہ توران‘ قصدار‘ کیکانان‘ مکران‘ مشکی وغیرہ چھوٹی چھوٹی ریاستیں بھی عرب سرداروں نے قائم کر لی تھیں جو ان بڑی ریاستوں کی ماتحتی اور خراج گذاری تسلیم کر چکی تھیں‘ اس طرح تمام صوبہ سندھ خود مختار اور خلیفہ بغداد کی حکومت سے آزاد ہو چکا تھا مگر یہاں خطبہ ہر جگہ خلیفہ بغداد کے نام کا پڑھا جاتا تھا‘ یہ تمام ریاستیں بتدریج کمزور ہوتے ہوتے سو یا سوا سو سال کے عرصہ میں معدوم ہو گئیں‘ مگر ملتان کی ریاست اس وقت تک قائم تھی جب کہ سلطان محمود غزنوی نے ہندوستان پر حملہ آوری شروع کی ہے اور ہندوئوں نے اس کو ہندوستان آنے کی تکلیف دی ہے۔